حظر و اباحت / حلال و حرام / حرام طریقہ علاج و ادویات

خون عطیہ کرنا

فتوی نمبر : 560 0000-00-00 144 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خون عطیہ کرنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اشد ضرورت یعنی جب مریض کے بیماری بڑھنےیا جان جانے کا خطرہ ہو ،تواسےخون عطیہ کرنا جائز ہے

الدرالمختار :(1/ 210، ط: دارالفكر) اختلف في ‌التداوي ‌بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان وعليه الفتوى . البناية : (7/ 119، ط: دار الكتب العلمية ) لأن الضرورات ‌تبيح ‌المحظورات م: (لأن دفع الهلاك واجب بأي طريق يمكن) . (انسانی اعضاکی پیوند کاری : ص ۲۶، ط: دارالاشاعت کراچی ) جب خون دینے کی ضرورت ہو یعنی کسی مریض کی ہلاکت کا خطرہ ہو اور ماہر ڈاکٹر کی نظرمیں اس کی جان بچانے کا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو تو خون دینا جائز ہے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
انسانی اعضا کا ہبہ کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اولاد کے حصول کے لیے حالت حیض میں جماع کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
خون عطیہ کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اولاد کے حصول کے لیے حالت حیض میں جماع کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شراب ملی ہوئی ادویات کے استعمال کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بطور علاج گدھی کے دود ھ پینے کا حکم