کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کو پنکھے کی ضرورت ہے اس کے پاس کچھ رقم تو ہے،لیکن پورے پیسے نہیں تو کیا دکاندار اس سے یہ کچھ رقم لے کر مزید رقم اپنی زکوٰۃ میں سے ادا کر سکتا ہے یا نہیں اور دکاندار کی یہ بقایا رقم زکوٰۃ کی ادائیگی میں یہ قیمت خرید کے حساب سے شمار ہوگی یا قیمت فروخت کے حساب سے؟ مثلا دکاندار نے یہ پنکھا ہزار میں خریدا ہے اور پندرہ سو میں فروخت کرتا ہے، اس شخص(خریدار ) کے پاس پانچ سو روپے ہیں، مزید رقم دکاندار اس سے نہیں لیتا اور اپنی طرف سے زکوٰۃ کی نیت کرلیتا ہے تو کیا اس کی طرف سے پانچ سو روپے زکوٰۃ کی مد میں ادا ہوئے یا ہزار ؟ یا اس طرح سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مستحقِ زکوٰۃ ہو تو اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے، خواہ نقد رقم کی صورت میں دی جائے یا کسی سامان کا مالک بنا کر ادا کی جائے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکوٰۃ کو اس مال کا مالک بنانا ضروری ہے، صرف دکاندار کی نیت کافی نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر پنکھے کی قیمتِ فروخت 1500 روپے ہے اور خریدار کے پاس صرف 500 روپے ہیں، جنہیں وہ ادا کر دیتا ہے، جبکہ باقی 1000 روپے دکاندار زکوٰۃ کی نیت سے اسے مالک بنا کر اسی سے پنکھے کی قیمت وصول کر لیتا ہے تو یہ 1000 روپے زکوٰۃ میں شمار ہوں گے اور زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ نیز زکوٰۃ میں سامان کی قیمتِ فروخت معتبر ہوتی ہے، نہ کہ قیمتِ خرید،لہٰذا اگر دکاندار نے یہ پنکھا 1000 روپے میں خریدا تھا، لیکن اس کی فروخت کی قیمت 1500 روپے ہے، تو زکوٰۃ میں باقی 1000 روپے ہی شمار ہوں گے، قیمتِ خرید کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔
الدر المختار:(2/ 286،ط:دارالفکر) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه. الهندية: (1/ 170،ط:دارالفکر) أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى. ایضاً :(1/ 190) إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة.