السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ آج کل جیسے لوگ کہتے ہیں کہ ہر فرعون کے لیے اللہ نے موسٰی تیار کیا ہے، اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے
واضح رہے کہ "لکل فرعون موسی" کہ ہر فرعون کے لیے کوئی نہ کوئی موسی ہوتا ہے، یہ عربی زبان کا مقولہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں کوئی سرکش ظالم و جابر آدمی ہوتا ہے، وہاں اس کی اصلاح یا سرکوبی کے لیے کوئی نہ کوئی اہل حق ضرور ہوتا ہے، لہذا یہ ایک محاورہ ہے، اس میں لفظی ترجمہ ملحوظ نہیں ہوتا، اس لیے اس طرح کا جملہ کہنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
*روح البيان: (4/ 70،ط:دار الفكر)*
فقد ظهر ان الحق من اهل الحق فهم كموسى وهارون واهل الباطل كفرعون وقد ثبت ان لكل فرعون موسى وذلك«فى كل عصر الى ان ينزل عيسى عليه السلام ويقتل الدجال.
*التخمير شرح المفصل في صنعة الإعراب (1/ 194،ط:دار الغرب الإسلامي)*
لكلِّ فرعونٍ موسى، أي لكلِّ جَبَّاَرٍ بطلٌ قهارٌ محقٌّ.
فهذا معناه لا أن يرادَ بفرعون وموسى فرعونُ موسى(2).