قوانین کی خلاف ورزی

کسی دوسرے کی جگہ امتحان دینے کا حکم

فتوی نمبر :
1064
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / قوانین کی خلاف ورزی

کسی دوسرے کی جگہ امتحان دینے کا حکم

مفتی صاحب!
کیا کوئی شخص کسی دوسرے کی جگہ امتحان ہال جا کر اس کے پرچے دے سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی دوسرے کی جگہ امتحان دینا نہ صرف قانوناً جرم ہے، بلکہ شرعاً بھی یہ دھوکہ، خیانت اور جھوٹ جیسے کبیرہ گناہوں میں شامل ہے، اس عمل کے عوض پیسے لینا یا دینا سراسر حرام اور ناجائز ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:( المائدۃ:2:5)*
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ.

*سنن ابي داود:(327/7،رقم الحديث 5971،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا حيوة بن شريح الحضرمي إمام مسجد حمص، حدثنا بقية ابن الوليد، عن ضبارة بن مالك الحضرمي، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن أبيه
عن سفيان بن أسيد الحضرمي، قال: سمعت رسول الله -ﷺيقول: «كبرت خيانة أن تحدث أخاك حديثا هو لك به مصدق، وأنت له به كاذب»

*المبسوط للسرخسى:(38/16،ط:دار المعرفة)*
ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو؛ لأنه معصية والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1064کی تصدیق کریں