مفتی صاحب!
ہماری گھڑی والے سے بات ہوئی ہے، ان سے ہماری یہ بات طے ہوئی کہ ہم آپ سے گھڑیاں خریدیں گے اور اسے آگے بیچیں گے، جو گھڑیاں رہ جائیں گی وہ ہم آپ کو واپس کر دیں گے، پھر انہوں نے کہا کہ جو گھڑیاں خراب نہیں ہوئی ہوں گی، وہ آپ لوگوں سے واپس لے لوں گا اور تمہیں تمہارے پیسے واپس دے دوں گا۔
یہ معاملہ مجھے کچھ مشکوک لگ رہا ہے، کیا یہ جائز ہے؟
واضح رہے کہ اگر خرید و فروخت کے معاملہ میں یہ بات طے ہو کہ خریدار مال فروخت نہ ہونے کی صورت میں واپس کر سکے گا تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1) اگر یہ بات محض ایک وعدہ ہو، باقاعدہ شرط نہ ہو تو اس وعدے کی وجہ سے بیع کے جواز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ اخلاقاً وعدہ پورا کرنا لازم ہے۔
2) لیکن اگر مال واپس لینے کو عقدِ بیع میں باقاعدہ شرط کے طور پر شامل کیا گیا ہو تو یہ شرطِ اقالہ (واپسی کی شرط) پر مبنی بیع ہوگی جو شرعاً درست نہیں، اس صورت میں یہ معاملہ ناجائز ہوگا، لہٰذا اس شرط کو ختم کرکے نئے سرے سے بغیر شرط کے معاملہ کرنا ضروری ہے۔
*القرآن الکریم:(المائدة:1:5)*
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ}
*المبسوط للسرخسي:(108/12،ط:دار المعرفة)*
وانعقاد هذا البيع بلفظين هما عبارة عن الماضي وهو بقوله بعت واشتريت في محلين كل واحد منهما مال
متقوم على طريق الاكتساب حتى أن ما يدخله معنى التبرع كالهبة بشرط العوض لا يكون بيعا ابتداء.
*بدائع الصنائع:(175/5،ط:دار الكتب العلمية)*
وتعليق الإقالة بالشرط فاسد، فكان هذا بيعا دخله شرط فاسد؛ فيكون فاسدا كسائر الأنواع التي دخلتها شروط فاسدة.