زیب و زینت

زیرناف بال صاف کرنے کے بعد بیت الخلاء میں بہانے کا حکم

فتوی نمبر :
2233
آداب / آداب زندگی / زیب و زینت

زیرناف بال صاف کرنے کے بعد بیت الخلاء میں بہانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ ہم اس مسئلے کے بارے میں کہ زیر ناف بالوں کو صاف کر دینے کے بعد ان بالوں کا کیا کرنا چاہیے؟ بعض لوگ انہیں واش روم میں پانی کے ساتھ بہا دیتے ہیں کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زیر ناف بال صاف کر نے کےبعد انہیں دفن کر دینا چاہیے، واش روم میں بہانا مناسب نہیں ہے ۔

حوالہ جات

الهندية: (5/ 358، ط: دارالفكر)
فإذا قلم أطفاره ‌أو ‌جز ‌شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان.

البحر الرائق : (8/ 232، ط: دارالكتاب الاسلامي)
ولو قلم أظافيره ‌أو ‌جز ‌شعره يجب أن يدفن وإن رماه فلا بأس به وإن رماه في الكنيف أو المغتسل فهو مكروه وفي الفتاوى العتابية يدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم .

مرقاة المفاتيح: (7/ 2815، ط:دارالفكر)
إذا قلم أظافيره ‌أو ‌جز ‌شعره ينبغي أن يدفن قلامته، فإن رمى به فلا بأس، وإن ألقاه في الكنيف أو المغتسل يكره.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
8
فتوی نمبر 2233کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --