قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کی قیمت نقد ادا کرنے کی صورت میں مقررہ قیمت میں کمی کا حکم

فتوی نمبر :
2097
معاملات / مالی معاوضات /

قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کی قیمت نقد ادا کرنے کی صورت میں مقررہ قیمت میں کمی کا حکم

قسطوں پر بیع طے ہو جائے اور کچھ ادائیگی کرنے کے بعد مشتری نقد رقم دینا چاہے تو ظاہر ہے نقد کی صورت میں کم رقم ہو گی ،،کیا اس طرح کرنا درست ہے؟ارجنٹ جواب درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کی اصل قیمت، وہی ہوگی جو خریداری کے وقت مقرر کئی گئی تھی۔اس میں کسی قسم کی کمی اور زیادتی جائز نہیں ہے ، چاہے بعد میں تمام قسطیں یکمشت ادا کی جائیں یا اپنے وقت مقررہ پر ۔
البتہ اگر فروخت کنندہ (سائل) وقت سے پہلے رقم ادا کرنے پر غیرمشروط طورپر ، اپنی مرضی وخوشی سے خریدار کے مطالبہ کے بغیر کچھ رقم کم کردے تو یہ جائز ہوگا، تاہم ایسا کرنا اس پر لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی خریدار کو اِس کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔

حوالہ جات

*الهداية:(195/3،ط: دار احياء التراث العربي،)*
قال: "ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز" لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه، وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام "وإن كان له ألف سود فصالحه على خمسمائة بيض لم يجز" لأن البيض غير مستحقة بعقد المداينة وهي زائدة وصفا فيكون معاوضة الألف بخمسمائة وزيادة وصف وهو ربا، بخلاف ما إذا صالح عن الألف البيض على خمسمائة سود حيث يجوز لأنه إسقاط كله قدرا ووصفا، وبخلاف ما إذا صالح على قدر الدين وهو أجود لأنه معاوضة المثل بالمثل، ولا معتبر بالصفة إلا أنه يشترط القبض في المجلس، ولو كان عليه ألف درهم ومائة دينار فصالحه على مائة درهم حالة أو إلى شهر صح الصلح لأنه أمكن أن يجعل إسقاطا للدنانير كلها والدراهم إلا مائة وتأجيلا للباقي فلا يجعل معاوضة تصحيحا للعقد أو لأن معنى الإسقاط فيه ألزم.

قال: "ومن له على آخر ألف درهم فقال أد إلي غدا منها خمسمائة على أنك بريء من الفضل ففعل فهو بريء، فإن لم يدفع إليه الخمسمائة غدا عاد عليه الألف وهو قول أبي حنيفة ومحمد..

*بحوث في قضايا فقهية معاصرة:(33،ط:دارالقلم)*
وكذلك المنع من الوضع بالتعجيل في الديون المؤجلة إنما يكون إذا كان الوضع شرطا للتعجيل. أما إذا عجل المدين من غير شرط، جاز للدائن أن يضع عنه بعض دينه تبرعا. وعليه حمل الجصاص رحمه الله الآثار التي تدل على جواز "ضع وتعجل...

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
13
فتوی نمبر 2097کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --