کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے موت کی خبر دی جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے یعنی وہ مسلمان اس کافر کی موت پر انا للہ و انا الیہ راجعون کہہ سکتا ہے یا نہیں؟
نیز اس کے علاوہ کوئی دعا پڑھنے کی اجازت ہے ؟
اسلام انسان کو ہر حال میں اعتدال، حکمت اور احتیاط کی تعلیم دیتا ہے، غیر مسلم کے انتقال کی صورت میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی اختیار کرے، کوئی مخصوص دعائیہ کلمات نہ پڑھے اور اپنی آخرت کو یاد کرے، اگرچہ بعض علما ئے کرام نے’’ انا للہ واناالیہ راجعون‘‘ پڑھنے کی گنجائش دی ہے، اس موقع پر ایسے الفاظ سے اجتناب ضروری ہے جو شرعی حدود سے متجاوز ہوں، البتہ تعزیت کے طور پر غیر مسلم کو یہ کہنا جائز ہے:”اللہ تمہیں اس سے بہتر عطا فرمائے اور تمہیں خیر کی توفیق دے۔“
*الشامية:(388/6،ط: دارالفكر)*
وفي النوادر جار يهودي أو مجوسي مات ابن له أو قريب ينبغي أن يعزيه، ويقول أخلف الله عليك خيرا منه، وأصلحك وكان معناه أصلحك الله بالإسلام يعني رزقك الإسلام ورزقك ولدا مسلما كفاية.
*الهندية:(348/5،ط: دارالفكر)*
وإذا مات الكافر قال لوالده أو قريبه في تعزيته أخلف الله عليك خيرا منه وأصلحك أي أصلحك بالإسلام ورزقك ولدا مسلما لأن الخيرية به تظهر كذا في التبيين.