السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ایک مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ شادی شدہ عورت کے لیے ماں باپ کی خدمت اور ساس سسر کی خدمت کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ رشتہ داروں میں سب سے زیادہ حق والدین کا ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالی نے جابجا اپنی بندگی اور اطاعت کے حق کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر فرمایا ہے، حديث شریف میں آتا ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔‘‘نیز واضح رہے کہ جب والدین کو خدمت کی ضرورت ہو تو اولاد بیٹے ہوں یا بیٹیاں سب پر یکساں ان کی خدمت واجب ہے، البتہ شادی کے بعد عورت پر شوہر کا حق زیادہ ہے، اس لیے شوہر کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جس قدر ممکن ہو اپنے والدین کی خدمت گزاری کرے، لیکن اگر شوہر اپنے حقوق کی وجہ سے بیوی کو والدین کی خدمت کرنے سے منع کر ے تو شوہر کا حق والدین کے حق پر مقدم ہو گا۔
عورت کے ذمہ ساس اور سسر کی خدمت شرعاً فرض نہیں، وہ ان کی خدمت کرنے کی پابند نہیں، لیکن اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ چونکہ سسر اور ساس والدین کی طرح ہوتے ہیں، لہذا والدین کی طرح ان کی بھی خدمت کرے، اس کو اپنے لیے سعادت سمجھے، اس سے گھریلو زندگی میں خوش گوار ماحول پیدا ہوگا اور میاں بیوی کا ازدواجی رشتہ پائے دار اور مستحکم ہوگا، چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی ساس یعنی علی رضی اللہ عنہ کی والدہ فاطمہ بنتِ اسد کی خدمت کیا کرتی تھیں اور گھریلو کاموں میں ان کی مدد کرتی تھیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر کے کام اپنی بیوی اور اپنی ماں کے درمیان تقسیم فرمایا کرتے تھے، چنانچہ طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:’’میں نے اپنی والدہ فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم سے کہا:آپ فاطمہ بنتِ رسول اللہ ﷺ کی پانی بھرنے اور باہر کے کاموں میں مدد کر دیا کریں اور وہ آپ کی گھر کے اندرونی کام کرنے میں مدد کردیا کریں گی، جیسےگندم پیسنا ،آٹا گوندھنا اور روٹی پکانا۔
القرآن الکریم:( بنی اسرائیل:23:17)
وَقَضىٰ رَبُّكَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ وَبِالوالِدَينِ إِحسانًا ۚ إِمّا يَبلُغَنَّ عِندَكَ الكِبَرَ أَحَدُهُما أَو كِلاهُما فَلا تَقُل لَهُما أُفٍّ وَلا تَنهَرهُما وَقُل لَهُما قَولًا كَريمًا.
السنن الكبرى للنسائى:254/8،رقم الحديث:(9103،ط:مؤسسة الرسالة)
أخبرنا محمود بن غيلان قال: حدثنا أبو أحمد قال: حدثنا مسعر، عن أبي عتبة، عن عائشة قالت: سألت النبي ﷺ أي الناس أعظم حقا على المرأة؟ قال: «زوجها» قلت: فأي الناس أعظم حقا على الرجل؟ قال: «أمه».
سنن أبی داؤد::475/3،رقم الحديث:(2140،ط: دار الرسالة العالمية)
حدثنا عمرو بن عون، أخبرنا اسحاق بن يوسف، عن شريك، عن حصين، عن الشعبي عن قيس بن سعد، قال: أتيت الحيرة فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم، فقلت: رسول الله أحق أن يسجد له، قال: فأتيت النبي - ﷺ - فقلت: إني أتيت الحيرة فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم، فأنت يا رسول الله أحق أن نسجد لك، قال: «أرأيت لو مررت بقبري أكنت تسجد له؟» قال: قلت: لا، قال: «فلا تفعلوا، لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت النساء أن يسجدن لأزواجهن، لما جعل الله لهم عليهن من الحق».
شعب الإيمان:(10/ 246 ،رقم الحدیث:7445،ط: مكتبة الرشد)
عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رضا الله مع رضا الوالدين، وسخط الله مع سخط الوالدين".
المعجم الكبير للطبراني:(24/ 353،ط: مكتبة ابن تيمية)
حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، ثنا أبي، ح وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا عثمان بن أبي شيبة، ثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن عمرو بن مرة، عن أبي البختري، عن علي، قال: قلت لأمي فاطمة بنت أسد بن هاشم: «اكفي فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم سقاية الماء، والذهاب في الحاجة، وتكفيك خدمة الداخل الطحن، والعجن.
الدرالمختار:(3/ 579،ط:دارالفكر)
ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك لوجوبه عليها ديانة ولو شريفة؛ لأنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي رضي الله عنه والداخل على فاطمة رضي الله عنها مع أنها سيدة نساء العالمين بحر.