مفتی صاحب!
اگر کوئی ناپاکی کی حالت میں ہو تو اس کا روزہ رکھنا کیسا ہے ؟
اگر کوئی شخص جنابت (ناپاکی) کی حالت میں ہو اور سحری کرنا چاہے تو بہتر یہی ہے کہ پہلے غسل کرلے، تاہم اگر وقت کم ہو یا کسی عذر کی بنا پر غسل ممکن نہ ہو تو وضو یا کم از کم کلی کرکے سحری کر لینا بھی جائز ہے، جنابت کی حالت میں سحری کرنا منع نہیں، اگر کسی پر غسل واجب ہو اور وہ صبحِ صادق سے پہلے غسل نہ کر سکے، لیکن سحری کر کے روزہ رکھ لے تو اس کا روزہ درست ہوگا، ناپاکی کی حالت روزے کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
*صحیح البخاري:(31/3،رقم الحديث:1931،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا إسماعيل قال حدثني مالك عن سمي مولى أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة أنه سمع أبا بكر بن عبد الرحمن كنت أنا وأبي فذهبت معه حتى دخلنا على عائشة قالت أشهد على رسول الله ﷺ إن كان ليصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصومه.
*الدرالمختار:(400/2،ط: دارالفكر)*
(أو أصبح جنبا و) إن بقي كل اليوم (لم يفطر) جواب الشرط.
*المحيط البرهاني:(87/1،ط:دار الكتب العلمية)*
الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم، دل أن المقصود من الطهارة الصلاة، ومن لا يتمكن من الصلاة، فكان لها أن لا تغتسل.