واٹس گروپ سے مختلف اشیاء کی تصاویر لے کر، چیز خریدے بغیر آگے کسی کو بیچنا

فتوی نمبر :
1862
معاملات / مالی معاوضات /

واٹس گروپ سے مختلف اشیاء کی تصاویر لے کر، چیز خریدے بغیر آگے کسی کو بیچنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
آپ کی خدمت میں مسئلہ پیش کرنا چاہتا ہوں، جس کی وضاحت مطلوب ہے، پشاور نمک منڈی معدنیات کے بازار میں یہ معاملہ بہت رائج ہے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔
مسئلہ : لوگوں نے موبائل میں گروپ بنائے ہوتے ہیں جس میں معدنیات کی تصاویر اور ویڈیوز دیتے ہیں اور اس کے ساتھ قیمت بھی لکھتے ہیں یعنی گروپ کے ایڈمن کی طرف سے اس کو بیچنے کی اجازت ہوتی ہے، پھر اس گروپ کے لوگ یا گروپ کے علاوہ دوسرے لوگ وہ تصاویر اور ویڈیوز اپنے کسٹمر کو دکھاتے ہیں جو اکثر و بیشتر باہر ملک میں ہوتے ہیں اور کسٹمر کو اپنی مرضی کی قیمت کے ساتھ بیچتے ہیں، پھر بیچنے کے بعد اس گروپ کے ایڈمن کو بتاتے ہیں کہ یہ معدنیات میں نے آپ سے خرید لی اس قیمت پر جو اپ نے متعین کی ہے، یا کبھی کبھار اس کے ساتھ متعین کردہ قیمت سے کم قیمت طے کر لیتے ہیں
تو کیا یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نا ہو تو برائے کرم اس کی متبادل صورت مفصل بیان فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ خرید و فروخت کے شرعا جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے، وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو یہ بیع درست نہیں، لہذا منقولی اشیا کو قبضہ سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں۔
البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ہیں۔

(1) آن لائن معدنیات کا کاروبار کرنے والا معاملہ کی ابتدا میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ میں آپ کو یہ چیز بیچ رہا ہوں، بلکہ چیز بیچنے کا وعدہ کرے، اس طرح یہ وعدہ بیع ہو جائے گا اور معاملہ جائز ہو جائے گا ۔
(٢) دوسری صورت وکالت کی ہے، کہ مطلوبہ چیز خرید کر کسٹمر کو دے اور گاہک تک پہنچانے اور اپنی محنت کی طے شدہ اجرت لے ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں معدنیات کا کاروبار ان شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا جائے تو جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔

حوالہ جات

*الصحيح البخاري:(2/ 751،ط: السلطانيه)*
عن ابن عمر رضي الله عنهما:
أن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ: (‌مَنِ ‌ابْتَاعَ ‌طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ). زَادَ إِسْمَاعِيلُ: (‌مَنِ ‌ابْتَاعَ ‌طَعَامًا فَلَا يبعه حتى يقبضه).

*سنن الترمذي:(2/ 515،ط:دارالغرب الاسلامي)*
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ - حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «لَا ‌يَحِلُّ ‌سَلَفٌ» ‌وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.

*الشامية: (5/ 73،ط: دارالفكر)*
قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية، وقيد بقوله وقبضه؛ لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز.

*ايضا:(4/ 528،ط:دارالفكر)*
(وإذا وجدا ‌لزم ‌البيع) بلا خيار إلا لعيب أو رؤية.

*ایضاً:(63/6،ط:دارالفكر*)
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

*ایضاً:(560/4،ط:دارالفكر)*
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.
(ويسلم الثمن أولا في بيع سلعة بدنانير ودراهم) إن أحضر البائع السلعة، (وفي بيع سلعة بمثلها)

*الهندية:(3/ 57،ط: دارالفكر)*
«‌شراء ‌ما ‌لم ‌يره جائز كذا في الحاوي وصورة المسألة أن يقول الرجل لغيره: بعت منك هذا الثوب الذي في كمي هذا وصفته كذا والدرة التي في كفي هذه وصفتها كذا أو لم يذكر الصفة، أو يقول: بعت منك هذه الجارية المنتقبة. وأما إذا قال: بعت منك ما في كمي هذا أو ما في كفي هذه من شيء هل يجوز هذا البيع؟ لم يذكره في المبسوط قال عامة مشايخنا: إطلاق الجواب يدل على جوازه عندنا كذا في المحيط من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه إن شاء أخذه بجميع ثمنه وإن شاء رده سواء.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
24
فتوی نمبر 1862کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --