السلام علیکم ! اگر کسی شخص کا گھر اور رہائش کوئٹہ میں ہو اور ایک گھر پنجاب میں ہو، مگر رہائش نہ رکھی اور دس دن کے لیے پنجاب رشتہ داروں کے گھر ٹھہرے تو نماز سفرانہ ہو گی یا پوری ؟اس گھر کی ملکیت کی وجہ سے ؟
واضح رہے کہ فقہا نے وطن کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ 1) وطنِ اصلی:جہاں انسان مستقل رہنے کے ارادے سے رہائش اختیار کرے، خواہ وہ آبائی گاؤں ہو یا کوئی دوسرا شہر، یہ وطن اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہاں سے مستقل سکونت ختم نہ کی جائے۔ 2)وطنِ اقامت:وہ جگہ جہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو، یہ وطن عارضی ہوتا ہے۔ 3) وطن سفر: وہ جگہ جہاں پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ ہو۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکور شخص مستقل طور پر کوئٹہ میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے کوئٹہ ان کا وطنِ اصلی شمار ہوگا، پنجاب میں چونکہ ان کی مستقل رہائش نہیں اس لیے وہ ان کا وطنِ اصلی باقی نہیں، لہذا اگر وہ پنجاب پندرہ دن سے کم قیام کے ارادے سے جائیں تو مسافر شمار ہوں گے، لہٰذا چار رکعت والی فرض نمازوں کو دو رکعت پڑھنا لازم ہوگا، اگر پندرہ دن یا زیادہ قیام کا ارادہ کریں تو وہ جگہ ان کا وطنِ اقامت بن جائے گی اور ان پر چار رکعت پوری پڑھنا لازم ہوگا۔
*الشامية:(132/2،ط: دارالفكر)* (قوله الوطن الأصلي) ويسمى بالأهلي ووطن الفطرة والقرار ح عن القهستاني. (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه. *مراقی الفلاح:(165/1،ط: المكتبة العصرية)* ويبطل الوطن الأصلي بمثله فقط ويبطل وطن الإقامة بمثله وبالسفر وبالأصلي والوطن الأصلي هو الذي ولد فيه أو تزوج أو لم يتزوج وقصد التعيش لا الارتحال عنه ووطن الإقامة موضع نوى الإقامة فيه نصف شهر فما فوقه ولم يعتبر المحققون وطن السكنى وهو ما ينوي الإقامة فيه دون نصف شهر. *ملتقى الابحر:(243/1،ط: دارالكتب العلمية)* ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا بالسفر ووطن الإقامة بمثله والسفرالأصلي. *العناية شرح الهداية:(44/2،ط: دارالفكر)* أن الوطن الأصلي يبطل بالوطن الأصلي دون وطن الإقامة، وإنشاء السفر وهو أن يخرج قاصدا مكانا يصل إليه في مدة السفر لأن الشيء إنما يبطل بما فوقه أو ما يساويه وليس فوقه شيء فيبطل بما يساويه، ألا ترى أن رسول الله ﷺ بعد الهجرة عد نفسه بمكة من المسافرين وقال «أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر» وأما وطن الإقامة فله ما يساويه وما هو فوقه فيبطل بكل منهما وبإنشاء السفر أيضا لأنه ضده.