خلع

رخصتی سے پہلے عدالتی خلع کا حکم

فتوی نمبر :
1527
معاملات / احکام طلاق / خلع

رخصتی سے پہلے عدالتی خلع کا حکم

ایک عورت کا نکاح ہوچکا ہے، رخصتی نہیں ہوئی، اب شوہر گھر والوں کے کہنے پر عورت کو رکھنا نہیں چاہ رہا، اب عورت طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو شوہر طلاق بھی نہیں دے رہا، عورت نے عدالت سے خلع لیا،لیکن شوہر راضی نہیں ہو رہا، اس صورت میں شرعی طور پر خلع واقع نہیں ہوا تو اب اس صورت میں عورت بیچاری کیا کرے وہ درمیان میں دب کر رہ گئی ہے عدالت سے فسخ نکاح کے متعلق معلوم کیا تو وہ کہہ رہے ہیں خلع ہی فسخ نکاح ہے، اب عورت اس معاملے میں پھنس چکی ہے نکاح سے خلاصی کی کیا ترتیب ہوگی ؟رہنمائی فرما دیں۔ جزاك اللّٰه خيرًا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین کی رضامندی ضروری ہے، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اگر بیوی یکطرفہ خلع لے لے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں۔
پوچھی گئی صورت میں یکطرفہ عدالتی خلع معتبر نہیں اور یہ عورت بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں ہے، جب تک سابقہ نکاح ختم نہیں ہو جاتا تب تک یہ عورت کسی اور جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔
اب نکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے، اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو پھر کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،
اگر شوہر طلاق یا خلع میں سے کسی صورت پر آمادہ نہیں اور چونکہ آپ کے بیان کے مطابق شوہر بیوی کو رکھنا نہیں چاہتا تو اسی بات کو بنیاد بنا کر عدالت میں فسخِ نکاح کی درخواست دائر کریں، کیونکہ شرعاً فسخ نکاح کی معقول وجہ(شوہر کا تَعَنُّت) موجود ہے، درخواست میں خلع کا ذکر ہرگز نہ کریں، بلکہ یہ تحریر کریں کہ میرا شوہر نہ مجھے بساتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے، لہٰذا میرا نکاح اس سے فسخ کیا جائے۔
پھر جب آپ کو عدالت سے ڈگری مل جائے تو عدالت کا اصل فیصلہ دارالافتاء بھیج کر فتویٰ حاصل کریں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں۔

حوالہ جات

*القرآن الكريم: (النساء4: 128، 130)*
{وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (128) وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (129) وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا}

*بدائع الصنائع:(145/3،ط:دارالکتب العلمیة)*
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1527کی تصدیق کریں