ایڈوانس رقم دےکرسونے کےزیورات بنوانے کا حکم

فتوی نمبر :
1415
معاملات / مالی معاوضات /

ایڈوانس رقم دےکرسونے کےزیورات بنوانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک مسئلہ ہے وضاحت چاہیے کہ میں سنار کو پچاس ہزار روپے دے کر پانچ گرام سونے کی بکنگ کراؤں، جس کی قیمت تقریباً دو لاکھ ہے اور باقی پیسے اپنی سہولت کے مطابق کچھ عرصے میں ادا کرنے کے بعد اس سونےکا مالک بن جاؤں تو کیا یہ معاملہ شریعت کی رو سے درست ہے ؟تفصیل سے وضاحت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا کثیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آرڈر دیتے ہوئے زیور کی تمام تفصیلات مثلاً جنس، کیرٹ، ڈیزائن، وزن وغیرہ واضح طور پر طے کردی جائیں تاکہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے، اسی طرح قیمت بھی طے کرلی جائے، آرڈر کے وقت مکمل رقم دینا ضروری نہیں، ایڈوانس کی کچھ رقم دے کر بقیہ رقم سونا وصول کرتے وقت ادا کی جائے تو مذکورہ صورت درست ہے۔

حوالہ جات

*المبسوط للسرخسى:(39/14،ط:دار المعرفة)*
ولو استأجر صائغا يصوغ له طوق ذهب بقدر معلوم، وقال: زد في هذا الذهب عشرة مثاقيل؛ فهو جائز؛ لأنه استقرض منه تلك الزيادة، وأمره أن يخلطه بملكه فيصير قابضا كذلك، ثم استأجره في إقامة عمل معلوم في ذهب له.

*الشامية:(4/ 505،ط:دارالفكر)*
وأما الثالث: وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها عامة ومنها خاصة، فالعامة لكل بيع شروط الانعقاد المارة؛ ‌لأن ‌ما ‌لا ‌ينعقد ‌لا ‌يصح، ‌وعدم ‌التوقيت، ‌ومعلومية ‌المبيع، ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة فلا يصح بيع شاة من هذا القطيع وبيع الشيء بقيمته، أو بحكم فلان وخلوه عن شرط مفسد.

*الهندية:(207/3،ط: دارالفكر)*
ثم إن جاز الاستصناع فيما للناس فيه تعامل إذا بين وصفا على وجه يحصل التعريف أما فيما لا تعامل فيه كالاستصناع في الثياب بأن يأمر حائكا ليحيك له ثوبا بغزل من عند نفسه لم يجز كذا في الجامع الصغير وصورته أن يقول للخفاف اصنع لي خفا من أديمك يوافق رجلي ويريه رجله بكذا أو يقول للصائغ صغ لي خاتما من فضتك وبين وزنه وصفته بكذا وكذا لو قال لسقاء أعطني شربة ماء بفلس أو احتجم بأجر فإنه يجوز لتعامل الناس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
33
فتوی نمبر 1415کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --