کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ عید میلا د النبی ﷺ منانا اور اس دن کسی خاص میٹھے خوراک کا بندوبست کرنا کیسا ہے ؟
واضح رہے کہ عید میلا د النبی ﷺ منانا حضرات صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور چھ صدی ہجری تک کے مسلمانوں میں سے کسی سے ثابت نہیں ، پھر اس دن جو خرافات کیے جاتے ہیں مثلا : راستوں کو بند کرنا ، بلند آواز میں نظمیں وغیرہ چلا کر لوگوں کو تکلیف دینا ، اسی طرح آج کل مرد وعورتوں کا مخلوط جلوسوں کی شکل میں نکلنا کسی صورت جائز نہیں ۔
اسی طرح کسی دن کو خاص کرکے اس دن کچھ خاص کھانے بنوانا اوراس کو کار ثواب سمجھنا بھی بدعت ہے ، جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ۔
[النساء:/4 115]
ﵟوَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ .
صحيح البخاري: (3/ 184، رقم الحديث : 2697، ط: دارطوق النجاة )
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد .
الموسوعة الفقهية: (8/ 21، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
أطلق أصحاب الاتجاه الأول البدعة على كل حادث لم يوجد في الكتاب والسنة، سواء أكان في العبادات أم العادات، وسواء أكان مذموما أم غير مذموم.