احکام بدعات

عید میلاد النبی ﷺ منانا

فتوی نمبر :
1352
حظر و اباحت / بدعات و منکرات / احکام بدعات

عید میلاد النبی ﷺ منانا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ عید میلا د النبی ﷺ منانا اور اس دن کسی خاص میٹھے خوراک کا بندوبست کرنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عید میلا د النبی ﷺ منانا حضرات صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور چھ صدی ہجری تک کے مسلمانوں میں سے کسی سے ثابت نہیں ، پھر اس دن جو خرافات کیے جاتے ہیں مثلا : راستوں کو بند کرنا ، بلند آواز میں نظمیں وغیرہ چلا کر لوگوں کو تکلیف دینا ، اسی طرح آج کل مرد وعورتوں کا مخلوط جلوسوں کی شکل میں نکلنا کسی صورت جائز نہیں ۔
اسی طرح کسی دن کو خاص کرکے اس دن کچھ خاص کھانے بنوانا اوراس کو کار ثواب سمجھنا بھی بدعت ہے ، جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ۔

حوالہ جات

[النساء:/4 115]
ﵟوَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ .

صحيح البخاري: (3/ 184، رقم الحديث : 2697، ط: دارطوق النجاة )
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه ‌فهو ‌رد .

الموسوعة الفقهية: (8/ 21، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
أطلق أصحاب الاتجاه الأول ‌البدعة ‌على ‌كل ‌حادث لم يوجد في الكتاب والسنة، سواء أكان في العبادات أم العادات، وسواء أكان مذموما أم غير مذموم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
49
فتوی نمبر 1352کی تصدیق کریں