زیب و زینت

مرد کے لیے سینے کے بال کاٹنا

فتوی نمبر :
1157
آداب / آداب زندگی / زیب و زینت

مرد کے لیے سینے کے بال کاٹنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرد کے لیے سینے کے بال کاٹنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرد کے لیے سینے کے بال نہ کاٹنا بہترہے ،لیکن اگر کسی نے کاٹ لیے تو کوئی گناہ نہیں۔

حوالہ جات

مرقاة المفاتيح : (7/ 2814، ط:دارالفكر)
وعن أبي حنيفة يكره أن يحلق قفاه إلا عند الحجامة، وأما ‌حلق ‌شعر ‌الصدر والظهر، ففيه ترك الأدب كذا في القنية.

الهندية: (5/ 358، ط: دارالفكر)
وفي ‌حلق ‌شعر ‌الصدر والظهر ترك الأدب كذا في القنية .

الشامية :(6/ 407، ط: دارالفكر)
وفي ‌حلق ‌شعر ‌الصدر والظهر ترك الأدب كذا في القنية اهـ


الموسوعة الفقهية:(18/ 100، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)
وفي حلق شعر الصدر والظهر ترك الأدب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
55
فتوی نمبر 1157کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --