کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صدقہ کی شرعی تعریف کیا ہے ، صدقہ اور خیرات میں کیا فرق ہے ؟ صدقے کاگوشت کھانا کیسا ہے ؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صدقہ کا گوشت کھانا جائز نہیں ، نیز صدقہ کے مصارف کیا ہیں ؟
صدقہ کی تعریف یہ ہے کہ جو مال اللہ تعالیٰ کی رضا وخوش نودی کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں غریب اور مسکین لوگوں کو دیا جائے یاکسی خیر کے کام میں صرف کیا جائے اسے صدقہ کہتے ہیں ۔
صدقہ اور خیرات ایک ہی چیز ہے ۔
صدقے کا گوشت کھانا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ واجب صدقہ کا گوشت صدقہ کرنے والا خود نہیں کھاسکتا ۔
صدقہ کے مصارف غریب ، مسکین ، یتیم اور مسافر اسی طرح وہ رشتہ دار جو خود صاحب نصاب نہ ہو ں ہیں ۔
القرأن الكريم : [البقرة:/2 215]
يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلۡ مَآ أَنفَقۡتُم مِّنۡ خَيۡرٖ فَلِلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ .
الشامية :(6/ 327، ط: دارالفكر)
(قوله ويأكل من لحم الأضحية إلخ) هذا في الأضحية الواجبة والسنة سواء إذا لم تكن واجبة بالنذر، وإن وجبت به فلا يأكل منها شيئا ولا يطعم غنيا سواء كان الناذر غنيا أو فقيرا لأن سبيلها التصدق وليس للمتصدق ذلك .
مسند أحمد:(28/ 417 ، رقم الحديث : 17179، ط: مؤسسة الرسالة )
عن المقدام بن معدي كرب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما أطعمت نفسك، فهو لك صدقة، وما أطعمت ولدك، فهو لك صدقة، وما أطعمت زوجتك ، فهو لك صدقة، وما أطعمت خادمك، فهو لك صدقة " .