ٹرک میں سوار بچے کا ٹرک سے گرکردوسری گاڑی کے کچلنے سے مرنے کی صورت میں ٹرک ڈرائیور پر دیت کا حکم

فتوی نمبر :
1097
عقوبات / حدود و سزا /

ٹرک میں سوار بچے کا ٹرک سے گرکردوسری گاڑی کے کچلنے سے مرنے کی صورت میں ٹرک ڈرائیور پر دیت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک ٹرک ڈرائیور ہوں ، ایک دن ایک بچہ چلتے ہوئے ٹرک میں سوار ہوگیا اور مجھے اس کا علم نہ ہو سکا ، پھر وہ ٹرک سے گرگیا اور پیچھے آنے والے گاڑی نے اس کو کچل دیا ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ مجھ پر قصاص یادیت واجب ہوگی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں ڈرائیور کا قصور نہیں ، اس لیے اس پر قصاص یا دیت واجب نہیں ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (6/ 603، ط: دارالفكر)
(‌لا) ‌يضمن ‌الراكب (ما نفحت برجلها) أو ذنبها سائرة خلافا للشافعي .

الموسوعة الفقهية: (23/ 124، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
الحنفية والحنابلة في رواية عن أحمد: إن الراكب لا يضمن ما جنته دابته برجلها؛ لأنه لا يمكنه حفظ رجلها عن الجناية فلا يضمنها كما لو لم تكن يده عليها، وقال الشافعية وهو رواية عن أحمد: يضمن الراكب ما تجنيه الدابة في حال ركوبه مطلقا. سواء جنت بيدها، أم برجلها، أم برأسها، لأنها في يده، وعليه تعهدها وحفظها .

البحر الرائق: (8/ 406، ط: دارالكتاب الاسلامي )
قال رحمه الله (‌ضمن ‌الراكب ما أوطأت دابته بيد ورجل أو رأس أو كدمت أو خبطت أو صدمت لا ما نفحت برجل أو ذنب إلا إذا أوقفها في الطريق) والأصل في هذا الباب أن المرور في طريق المسلمين مباح بشرط السلامة؛ لأنه تصرف في حقه وفي حق غيره من وجه لكونه مشتركا بين كل الناس إذ الإباحة مقيدة بالسلامة، والاحتراز عن الإيطاء والكدم والصدم والخبط ممكن؛ لأنه ليس من ضرورة السير وقيدناه بشرط السلامة .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
40
فتوی نمبر 1097کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --