معاملات / احکام نکاح / وکیل و گواہ

بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم

فتوی نمبر : 2918 0000-00-00 3 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکے نے ایک لڑکی کے ساتھ نکاح یعنی ایجاب وقبول کیا ہے لیکن کوئی گواہ موجود نہیں تھا ، کیا یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کو کو گواہ بنا کر ایجاب قبول کرنا ضروری ہے ۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ کوئی گواہ موجودنہیں ،اس لیے یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔

الدرالمختار : (3/ 21، ط: دارالفكر) (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف . الهندية: (1/ 268، ط: دارالفكر) (ومنها) ‌سماع ‌الشاهدين كلامهما معا هكذا في فتح القدير فلا ينعقد بشهادة نائمين إذا لم يسمعا كلام العاقدين، كذا في فتاوى قاضي خان وتكلموا في الأصمين اللذين لا يسمعان والصحيح أنه لا ينعقد.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح میں نابالغ گواہوں کی شمولیت کا شرعی حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اگرنامحرم نکاح خواں عورت کی طرف سے وکیل بنے تو وکالت کی اجازت کس طرح لیں
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح خواں کے گواہ بننے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دولہا یا اس کے وکیل کو لڑکی کی طرف سے گواہ بنانے کا حکم