کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکے نے ایک لڑکی کے ساتھ نکاح یعنی ایجاب وقبول کیا ہے لیکن کوئی گواہ موجود نہیں تھا ، کیا یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کو کو گواہ بنا کر ایجاب قبول کرنا ضروری ہے ۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ کوئی گواہ موجودنہیں ،اس لیے یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔
الدرالمختار : (3/ 21، ط: دارالفكر) (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف . الهندية: (1/ 268، ط: دارالفكر) (ومنها) سماع الشاهدين كلامهما معا هكذا في فتح القدير فلا ينعقد بشهادة نائمين إذا لم يسمعا كلام العاقدين، كذا في فتاوى قاضي خان وتكلموا في الأصمين اللذين لا يسمعان والصحيح أنه لا ينعقد.