عبادات / احکام مسجد / اشیاء و مصارف مسجد

نابالغ بچوں کا مال ایصال ثواب کے لیے مسجد میں لگانے کا حکم

فتوی نمبر : 2474 0000-00-00 36 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ایک آدمی مر گیا، اس کے بچے ابھی چھوٹے ہیں تو اس کے مال سے اس کے ایصال ثواب کے لیے مسجد بنا سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی شخص کے فوت ہونے کے بعد اس کی تجہیز و تکفین ، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی کے لیے وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے کے بعد باقی ماندہ مال شرعی ورثا کی ملکیت بن جاتا ہے۔ تقسیمِ میراث سے پہلے کسی بھی وارث کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دیگر ورثا کی اجازت کے بغیر اس مال میں سے کچھ خرچ کرے، البتہ جب میراث باقاعدہ تقسیم ہو جائے تو ہر وارث اپنے حصے کا خود مالک ہوتا ہے اور اسے جہاں چاہے خرچ کر سکتا ہے، لیکن اگر ورثا میں نابالغ بچے بھی شامل ہوں تو تقسیم کے بعد بھی نابالغ بچوں کے حصے میں سے کسی کو خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، حتیٰ کہ خود بچوں کی اجازت بھی معتبر نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ بالغ ہو کر خود اجازت نہ دیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نابالغ اولاد کے حصے میں سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے مسجد پر خرچ کرنا جائز نہیں ، البتہ جب یہی بچے بالغ ہو جائیں تو وہ اپنی مرضی سے اپنے حصے میں سے مسجد کی تعمیر یا دیگر نیکی کے کاموں میں خرچ کریں تو یہ جائز ہوگا اور اس کا ثواب مرحوم کو بھی پہنچے گا۔

*القرآن الكريم: (النساء6،4)* وَابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا *الشامية: (560،ط:دارالفكر)* (‌وشرائط ‌صحتها ‌في ‌الواهب: العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق ولو مكاتبا. (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)