مفتی صاحب ! مسجد کے جو اشیاء بالکل خراب ہیں، پھینکنے کے قابل ہے ،ان کو اپنے ذاتی کام میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ مسجد کی کسی بھی چیز کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، البتہ اگر وہ چیز بے کار ہو گئی ہو ،تو اس کی قیمت مسجد کے متولی کو دے کر اس چیز کو خرید نا اور اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔
الدرالمختار: (4/ 377، ط: دارالفكر) الحاكم أو المتولي حاوي (نقضه) أو ثمنه إن تعذر إعادة عينه (إلى عمارته إن احتاج وإلا حفظه له ليحتاج) إلا إذا خاف ضياعه فيبيعه ويمسك ثمنه ليحتاج حاوي. الهندية: (2/ 462، ط: دارالفكر) متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.