عبادات / احکام مسجد / اشیاء و مصارف مسجد

مسجد کے لیے حرام مال سے خریدئے گئے مصلے کا حکم

فتوی نمبر : 2248 0000-00-00 43 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی مسجد کے لیے دو مصلے لے کر آئے اور وہ مصلے کچھ عرصے تک مسجد میں استعمال بھی ہوتے رہے بعد میں پتہ چلا کہ اس آدمی کی کمائی حلال نہیں ہے ،یہ جوا کھیلتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان مصلو ں کا کیا کیا جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس میں حلال مال ہی استعمال ہونا چاہیے حرام مال مسجد میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے ،لہذا پوچھی گئی صورت میں ان دونوں مصلوں کو واپس کر دینا چاہیے ۔

الشامية: (5/ 99، ط: دارالفكر) والحاصل أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه . الإعلام بأحكام المال الحرام: (ص291، ط: در اللؤلؤة للنشر والتوزيع) قال أيضًا: الحاصل ‌إنْ ‌عَلِم ‌أرباب ‌الأموال ‌وجب ‌رده ‌عليهم، وإلا فإنْ عَلِم عين الحرام، لا يحل له، ويتصدق به بنية صاحبه.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسجد کے لیے حرام مال سے خریدئے گئے مصلے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نابالغ بچوں کا مال ایصال ثواب کے لیے مسجد میں لگانے کا حکم