کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی مسجد کے لیے دو مصلے لے کر آئے اور وہ مصلے کچھ عرصے تک مسجد میں استعمال بھی ہوتے رہے بعد میں پتہ چلا کہ اس آدمی کی کمائی حلال نہیں ہے ،یہ جوا کھیلتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان مصلو ں کا کیا کیا جائے؟
واضح رہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس میں حلال مال ہی استعمال ہونا چاہیے حرام مال مسجد میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے ،لہذا پوچھی گئی صورت میں ان دونوں مصلوں کو واپس کر دینا چاہیے ۔
الشامية: (5/ 99، ط: دارالفكر) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه . الإعلام بأحكام المال الحرام: (ص291، ط: در اللؤلؤة للنشر والتوزيع) قال أيضًا: الحاصل إنْ عَلِم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإنْ عَلِم عين الحرام، لا يحل له، ويتصدق به بنية صاحبه.