اذان و اقامت

جو بیمار شخص کھڑے ہونے پر قدرت نہ رکھتا ہو اس کے لیے نماز اور روزے کا حکم

فتوی نمبر :
944
عبادات / نماز / اذان و اقامت

جو بیمار شخص کھڑے ہونے پر قدرت نہ رکھتا ہو اس کے لیے نماز اور روزے کا حکم

ایک بیمار شخص جوکہ کھڑے ہونے سے بھی قاصر ہیں بستر پر ہی پیشاب پاخانہ ہورہا ہے صفائی کے لئے ایک خادم رکھا ہوا ہے لہذا سوال یہ ہے کہ انکے لئے نماز اور روزے کی کیا ترتیب ہوگی شرعیت مطہرہ کی طرف سے کتنی لچک اور چھوٹ ہے نماز روزے کی ادائیگی کی تفصیل عنایت فرمادیں ?*

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جو شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قادر نہ ہو تو وہ بیٹھ کر اشارے کے ساتھ نماز ادا کرے اور اگر بیٹھنے پر بھی قادر نہ ہو تو لیٹ کر اشارہ کے ساتھ نماز پڑھے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پیٹھ کے بل لیٹ جائے، چہرہ قبلہ رخ ہو اور سر کے نیچے کچھ رکھ کر اونچا کرلے، یا دائیں کروٹ پر لیٹ جائے اور قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کرے۔ اگر اس پر بھی قدرت نہ رکھے تو نماز ساقط ہوجائے گی، البتہ اگر بعد میں صحت یاب ہوجائے تو اس نماز کی قضاء کرے، ورنہ معاف ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو یا روزہ رکھنے سے مرض بڑھنے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔ پھر اگر بعد میں صحت مند ہونے کی امید نہ ہو تو ہر روزے کے بدلے ایک فدیہ ادا کرے۔ لیکن اگر صحت یاب ہونے کی امید ہو تو فدیہ دینا درست نہیں، بلکہ صحت مند ہونے کے بعد ان روزوں کی قضاء کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

*الشامية:(427/2،ط:دارالفكر)*
(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا وإلا فيستغفر الله.....
قوله وللشيخ الفاني) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض

*أيضا:(99/2)*
(وإن تعذر القعود) ولو حكما (أومأ مستلقيا) على ظهره (ورجلاه نحو القبلة) غير أنه ينصب ركبتيه لكراهة مد الرجل إلى القبلة ويرفع رأسه يسيرا ليصير وجهه إليها (أو على جنبه الأيمن) أو الأيسر ووجهه إليها (والأول أفضل) على المعتمد (وإن تعذر الإيماء) برأسه (وكثرت الفوائت) بأن زادت على يوم وليلة (سقط القضاء عنه) وإن كان يفهم في ظاهر الرواية (وعليه الفتوى) .....
قوله بأن زادت على يوم وليلة) أما لو كانت يوما وليلة أو أقل وهو يعقل، فلا تسقط بل تقضى اتفاقا وهذا إذا صح، فلو مات ولم يقدر على الصلاة لم يلزمه القضاء حتى لا يلزمه الإيصاء بها كالمسافر إذا أفطر ومات قبل الإقامة كما في الزيلعي.

*الهندية:(136/1،ط:دارالفكر)*
إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد، هكذا في الهداية وأصح الأقاويل في تفسير العجز أن يلحقه بالقيام ضرر وعليه الفتوى، كذا في معراج الدراية، وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس،.....
وإن تعذر القعود أومأ بالركوع والسجود مستلقيا على ظهره وجعل رجليه إلى القبلة وينبغي أن يوضع تحترأسه وسادة حتى يكون شبيه القاعد ليتمكن من الإيماء بالركوع والسجود وإن اضطجع على جنبه ووجهه إلى القبلة وأومأ جاز والأول أولى

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 944کی تصدیق کریں