السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی دن بارات اور ولیمہ کرنا شرعی اعتبار سے جائز ہے؟آج کل اخراجات کی وجہ سے دونوں فیملیز مل کر ایک ہی دن فنکشن کرنا چاہتی ہیں، جس میں رخصتی کے ساتھ ولیمے کا کھانا بھی اسی دعوت میں دے دیا جائے۔ کیا اس طرح سنتِ ولیمہ ادا ہو جائے گی؟ اس میں شرعاً کوئی حرج تو نہیں ہے؟ رہنمائی فرما دیں۔جزاک اللہ خیرا
ولیمہ، رخصتی کے بعد کی جانے والی دعوت کا نام ہے اور یہ سنت ہے، فرض یا واجب نہیں، رخصتی کے بعد اگلے دن اپنی حیثیت کے مطابق ولیمہ کر لینا چاہیے اور اس کے لیے بڑی دعوت یا تمام رشتہ داروں کو جمع کرنا ضروری نہیں، بلکہ چند افراد کو کھانا کھلا دینے سے بھی سنت ادا ہو جاتی ہے، تاہم دعوتِ ولیمہ کی مدت تین دن تک ہے، اس کے علاوہ عقد کے بعد، یا رخصتی کے بعد اور شبِ زفاف سے پہلے جو ولیمہ ہو، وہ ’’ولیمہ مسنونہ‘‘ تو نہیں ہوگا، البتہ اس سے نفسِ ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی، گو مسنون وقت کی سنت ادا نہیں ہوگی۔ اور جو ضیافت عقدِ نکاح سے ہی پہلے کی جائے، وہ ولیمہ ہی نہیں ہوگا، بلکہ عام دعوت ہوگی۔ پوچھی گئی صورت میں بارات اور ولیمہ ایک ساتھ کرنے سے نفسِ ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی، گو مسنون وقت کی سنت ادا نہیں ہوگی، لیکن اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔
صحيح البخاري:4/7،رقم الحديث:(5072،ط:دار طوق النجاة) حدثنا محمد بن كثير، عن سفيان، عن حميد الطويل قال: سمعت أنس بن مالك قال: «قدم عبد الرحمن بن عوف، فآخى النبي ﷺ بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري، وعند الأنصاري امرأتان، فعرض عليه أن يناصفه أهله وماله، فقال: بارك الله لك في أهلك ومالك، دلوني على السوق، فأتى السوق فربح شيئا من أقط وشيئا من سمن، فرآه النبي ﷺ بعد أيام وعليه وضر من صفرة فقال: مهيم يا عبد الرحمن، فقال: تزوجت أنصارية، قال: فما سقت؟ قال: وزن نواة من ذهب، قال: أولم ولو بشاة.» فيض الباري:(543/5،ط:دار الكتب العلمية) الحادية عشر: السنة في الوليمة أن تكون بعد البناء، وطعام ما قبل البناء لا يقال له: وليمة عربية. وعجبا لبعض شيوخنا، قال: يحتمل أن يكون قول النبي - ﷺ - لعبد الرحمن بن عوف: «أولم» قبل البناء، وهذا رجل جاهل بالعربية، لا يسمي وليمته، إلا ما كان قبل البناء. اهـ ملخصا، «شرح الترمذي». الهندية:(343/5،ط: دارالفكر) ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعور الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما، وإذا اتخذ ينبغي لهم أن يجيبوا، فإن لم يفعلوا أثموا قال - عليه السلام -: «من لم يجب الدعوة، فقد عصى الله ورسوله، فإن كان صائما أجاب ودعا، وإن لم يكن صائما أكل ودعا، وإن لم يأكل أثم وجفا»، كذا في خزانة المفتين.