ولیمه

ولیمے کی دعوت کے لیے شادی ہال میں جانے کا حکم

فتوی نمبر :
1888
معاملات / احکام نکاح / ولیمه

ولیمے کی دعوت کے لیے شادی ہال میں جانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ پوچھنا ہے، ایک مولوی صاحب نے مجھ کو منع کیا ہے کہ شادی ہال میں ولیمے کی دعوت میں نہ جاؤ، کیونکہ وہاں پر خرافات وغیرہ زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے بارے میں ذرا وضاحت فرمائیں، میرے لیے کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی بھی تقریب میں شرکت کامدار اس بات پر ہے کہ وہ تقریب ناجائز امور سے پاک ہو، چنانچہ اگر کسی مجلس میں گانا بجانا، تصویر کشی، ویڈیو گرافی، بے پردگی، یا مرد و زن کا آزادانہ اختلاط پایا جائے تو ایسی تقریب میں شرکت کرنا جائز نہیں، خواہ وہ گھر کی چار دیواری میں ہی کیوں نہ منعقد کی گئی ہو اور اگر کسی تقریب میں یہ تمام ناجائز امور موجود نہ ہوں تو اس میں شرکت کی گنجائش ہے، چاہے وہ شادی ہال یا کسی اور مقام پر ہی کیوں نہ ہو۔

حوالہ جات

الدرالمختار:(652/1،ط: دار الفکر)*
(دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى: (فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين) (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن
كان) مقتدي (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لان فيه شين الدين، والمحكي عن الامام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أو لا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا، لان حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله، ابن كمال.

*ردالمحتار:(348/6،ط: دارالفکر )*
قوله وإن علم أولا) أفاد أن ما مر فيما إذا لم يعلم قبل حضوره (قوله لا يحضر أصلا) إلا إذا علم أنهم يتركون ذلك احتراما له فعليه أن يذهب إتقاني


*الھندیة:(343/5،ط: دار الفكر)*
من دعي إلى وليمة فوجد ثمة لعبا أو غناء فلا بأس أن يقعد ويأكل، فإن قدر على المنع يمنعهم، وإن لم يقدر يصبر وهذا إذا لم يكن مقتدى به أما إذا كان، ولم يقدر على منعهم، فإنه يخرج، ولا يقعد، ولو كان ذلك على المائدة لا ينبغي أن يقعد، وإن لم يكن مقتدى به وهذا كله بعد الحضور، وأما إذا علم قبل الحضور فلا يحضر؛ لأنه لا يلزمه حق الدعوة بخلاف ما إذا هجم عليه؛ لأنه قد لزمه، كذا في السراج الوهاج وإن علم المقتدى به بذلك قبل الدخول، وهو محترم يعلم أنه لو دخل يتركون ذلك فعليه أن يدخل وإلا لم يدخل، كذا في التمرتاشي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
21
فتوی نمبر 1888کی تصدیق کریں