مفتی صاحب! کیا شادی کے کسی خوشی کے موقع پر اگر والدین گھر میں میوزک چلانے پر اصرار کر رہے ہوں اور ہم میوزک نہیں چلانا چاہتے، بلکہ اسے منع کر دیتے ہیں تو کیا یہ والدین کی نافرمانی میں شمار ہوگا یا نہیں؟
واضح رہے کہ ساز و موسیقی کے ساتھ گانے سننا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا ایسے گانے بجانے سے روکنا ایمان کا تقاضا اور باعثِ ثواب ہے اور اس وجہ سے والدین کو منع کرنا ان کی نافرمانی میں شمار نہیں ہوگا، بشرطیکہ یہ کام ادب، احترام اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کیا جائے، لہٰذا والدین کو اس معاملے میں حکمت، نرمی اور بصیرت کے ساتھ سمجھانا چاہیے، سختی، بدزبانی یا بے ادبی سے اجتناب کرنا چاہیے، تاکہ نہ وہ ناراض ہوں اور نہ ہی خاندانی تعلقات متاثر ہوں، بلکہ اس طرح منع کیا جائے کہ مناسب انداز سے مسئلہ حل ہو جائے۔
القرآن الکریم:(لقمان 6:31) وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ تفسير القرطبي: (14/ 52،ط:دار الكتب المصرية ) روى سعيد بن جبير عن أبي الصهباء البكري قال: سئل عبد الله بن مسعود عن قوله تعالى:" ومن الناس من يشتري لهو الحديث" فقال: الغناء والله الذي لا إله إلا هو، يرددها ثلاث مرات. وعن ابن عمر أنه الغناء، وكذلك قال عكرمة وميمون بن مهران ومكحول. وروى شعبة وسفيان عن الحكم وحماد عن إبراهيم قال قال عبد الله بن مسعود: الغناء ينبت النفاق في القلب، وقاله مجاهد، وزاد: إن لهو الحديث في الآية الاستماع إلى الغناء وإلى مثله من الباطل. وقال الحسن: لهو الحديث المعازف والغناء. وقال القاسم بن محمد: الغناء باطل والباطل في النار. وقال ابن القاسم سألت مالكا عنه فقال: قال الله تعالى:"فماذا بعد الحق إلا الضلال".....وروى الترمذي وغيره من حديث أنس وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (صوتان ملعونان فاجران أنهى عنهما: صوت مزمار ورنة شيطان عند نغمة ومرح ورنة عند مصيبة لطم خدود وشق جيوب). وروى جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن علي عليه السلام قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (بعثت بكسر المزامير) خرجه أبو طالب الغيلاني. وخرج ابن بشران عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (بعثت بهدم المزامير والطبل). مصنف ابن أبي شيبة:(6/ 545،ط:دارالتاج) 33717 - حدثنا وكيع، قال ثنا مبارك، عن الحسن، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق.