معاملات / احکام طلاق / تفریق و تنسیخ

نکاح کو ختم کرنے کے طریقے

فتوی نمبر : 2798 0000-00-00 10 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اگر میاں بیوی میں نباہ کی کوئی صورت نہ بن رہی ہو اور ان کا اختلاف بڑھ رہا ہو، کون کون سے طریقوں سے نکاح ختم کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام میں نکاح کا بنیادی مقصد میاں بیوی کے درمیان محبت، سکون اور باہمی تعاون کو قائم رکھنا ہے، تاہم اگر ازدواجی زندگی اس مقام پر پہنچ جائے کہ باہمی موافقت ممکن نہ رہے تو شریعت نے رشتہ کے خاتمے کے لیے منصفانہ طریقے مقرر کیے ہیں، تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو۔ (1) طلاق:طلاق کا اختیار شوہر کو دیا گیا ہے، اس کی تین اقسام ہیں، طلاقِ رجعی، طلاقِ بائن اور طلاقِ مغلظہ، اور ہر قسم کے احکام ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ (2) دوسرا طریقہ خلع ہے، جس میں بیوی شوہر کی رضامندی سے کسی مالی عوض کے بدلے نکاح ختم کراتی ہے، اس کے بھی اپنے مخصوص احکام ہیں۔ (3) تیسرا طریقہ: فسخِ نکاح کا ہے، وہ یہ کہ بعض اوقات ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ شوہر نہ بیوی کے حقوق ادا کرتا ہے، نہ حسنِ معاشرت سے زندگی گزارتا ہے اور نہ ہی طلاق یا خلع پر آمادہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں شریعت نے قاضی یا مجاز عدالت کو اختیار دیا ہے کہ مخصوص شرعی اسباب کی موجودگی میں نکاح کو ختم کر دے۔

*مجمع الأنهر:(759/1،ط:دار إحياء التراث العربي)* هو إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو في معناه تأمل (ولا بأس به) أي بالخلع (عند الحاجة) بل هو مشروع بالكتاب والسنة وإجماع الأمة عند ضرورة عدم قبول الصلح وفي شرح الطحاوي إذا وقع بينهما اختلاف فالسنة أن يجتمع أهل الرجل والمرأة ليصلحا بينهما فإن لم يصلحا جاز له الطلاق والخلع وفيه إشارة إلى أن عدم الخلع أولى (وكره) [له أي للزوج أخذ شيء من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] إن نشز الزوج وكره أخذ أكثر مما أعطاها من المهر إن نشزت] تحريما وقيل تنزيها (له) أي للزوج (أخذ شيء) من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] (إن نشز) الزوج أي كرهها وباشر أنواع الأذى. *البناية شرح الهداية:(241/5،ط:دار الكتب العلمية)* إذا وجدت زوجها مجبوبًا، وهو مقطوع الذكر والخصيتين، ووجدته عنينًا، فإن القاضي يفرق بينهما عند طلب المرأة. *الهندية: (1/ 348،ط:دارالفکر)* (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي.... (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا كذا في محيط السرخسي.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)