السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! میرے کزن نے اپنی بیوی کو طلاق دی، دونوں میں جدائی ہو چکی ہے، ان کی ایک بچی ہے، جب اس کے والد اس سے ملنے جاتے ہیں تو لڑکی کی ماں ملنے نہیں دیتی، کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے، اس صورت میں بچی کی پرورش کا حق نو سال کی عمر تک ماں کو حاصل ہوتا ہے، جبکہ اس کے بعد تربیت کی ذمہ داری والد کے سپرد کی جاتی ہے، لہٰذا والد چاہے تو بچی کو اپنی نگرانی میں رکھ سکتا ہے یا باہمی رضامندی سے ماں کے پاس رہنے دے سکتا ہے، البتہ ماں یا باپ میں سے کسی کو بھی بچی سے ملاقات سے روکنے کا حق نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں طلاق یافتہ عورت کا بچی کے والد کو بچی سے ملنے سے روکنا جائز نہیں ۔
*السنن الكبرى للبيهقي:(7/8،رقم الحديث:15763،ط:دار الكتب العلمية)* أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، أخبرني أحمد بن محمد بن عبدوس العنزي، ثنا عثمان بن سعيد الدارمي، ثنا محمود بن خالد الدمشقي، ثنا الوليد بن مسلم، حدثني أبو عمرو الأوزاعي، حدثني عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو، أن امرأة، قالت: يا رسول الله، إن ابني هذا كان بطني له وعاء، وثديي له سقاء، وحجري له حواء، وإن أباه طلقني، وأراد أن ينزعه مني، فقال لها رسول الله ﷺ: «أنت أحق به ما لم تنكحي». *الهداية:(371/4،ط:دار الفكر)* (والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض) لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى. وعن محمد أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة. *الهندية:(543/1،ط: دارالفكر)* الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي. *فتاوی محمودیہ :(567/13:ط:جامعہ فاروقیہ کراچی)* جب تک مطلقہ کسی اجنبی شخص سے نکاح نہ کر ے خود بچوں کی والدہ کو حق پرورش ہو گا۔شوہر کے لئے جائز نہیں کہ بچوں کو والدہ سے علیحدہ کرے، یہاں تک کہ لڑکا خود کھانے، پینے، استنجا، کرنے لگے،اپنی ان چیزوں میں کسی کا محتاج نہ ہواور عام طور پر بچہ سات(7) سال کی عمر میں اس قابل ہو جاتا ہےاور لڑکی کو والدہ سے اس وقت تک جدا کرنا درست نہیں کہ لڑکی کو شہوت ہو نے لگے اور اس کا اندازہ نو(9) سال کی عمر ہے،اس کے بعد اپنی اولاد کو والدہ سے علیحدہ کرنا شرعا درست ہے۔