منگنی

منگنی توڑنے کا حکم

فتوی نمبر :
2552
معاملات / احکام نکاح / منگنی

منگنی توڑنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب!
کیا منگنی توڑنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ منگنی شرعاً نکاح نہیں، بلکہ وعدہ نکاح ہے اور بلا عذرِ شرعی وعدہ توڑنا مسلمان کی شان نہیں ،بلکہ ناپسندیدہ عمل اور منافق کی نشانی ہے، اس لیے بلا عذرِ شرعی منگنی کو نہ توڑا جائے، تاہم اگر کوئی عذر ہو تو منگنی توڑنے کی گنجائش ہے ۔

حوالہ جات

*صحيح البخاري:(25/8،رقم الحديث: 6095،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا ابن سلام حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن أبي سهيل نافع بن مالك بن أبي عامر، عن أبيه، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.»

*فتاوی دار العلوم دیوبند:(105/7،ط: دارالعلوم دیوبند)*
”خطبہ اور منگنی وعدۂ نکاح ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، اگرچہ مجلس خطبہ کی رسوم پوری ہوگئی ہوں، البتہ وعدہ خلافی کرنا بدون کسی عذر کے مذموم ہے، لیکن اگر مصلحت لڑکی کی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ہے تو دوسری جگہ نکاح لڑکی مذکورہ کا جائز ہے۔“

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
4
فتوی نمبر 2552کی تصدیق کریں