حرمت مصاهرت

بہو کا سسر پر ناجائز تعلق رکھنے کے الزام کا حکم

فتوی نمبر :
2157
معاملات / احکام طلاق / حرمت مصاهرت

بہو کا سسر پر ناجائز تعلق رکھنے کے الزام کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کی بہو یہ دعوی کر رہی ہے کہ اس کے سسر نے اس کے ساتھ ناجائز تعلقات ہے اور اس نے مجھےچھوا بھی ہے جبکہ سسر اس بات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا اس کے ساتھ کوئی ناجائز تعلق نہیں ہے میں اس کو اپنی بیٹی کی نظر سے دیکھتا ہوں اور یہ واقعہ ایک سال قبل کا ہے جبکہ شوہر کو ابھی علم ہوا ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ اس معاملے کا شرعا کیا حکم ہے آیا اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بہو کا یہ دعوی کرنا کہ سسر کا اس کے ساتھ ناجائز تعلقات ہے اس کا دارومدار شوہر کی تصدیق پر ہے،لہذٓ پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر بیوی کی تصدیق کرتا ہے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی بہو اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی اور اگر شوہر کو یقین نہیں ہے، اور وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرتا، کہ میرے باپ ایسا کر سکتے ہیں، تو ایسی صورت میں بہو اپنے شوہر پر حرام نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الشامية : (3/ 33، ط:دارالفكر)
(قوله: وأصل ماسته) أي بشهوة قال في الفتح: وثبوت الحرمة بلمسها ‌مشروط ‌بأن ‌يصدقها، ويقع في أكبر رأيه صدقها وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه، ثم رأيت عن أبي يوسف ما يفيد ذلك.

فتح القدير للكمال بن الهمام : (3/ 222، ط:دارالفكر)
وثبوت الحرمة بمسها ‌مشروط ‌بأن ‌يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها. وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها: لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
12
فتوی نمبر 2157کی تصدیق کریں