چندہ

جمعہ کے خطبہ کے دوران چندہ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2012
معاملات / امانات / چندہ

جمعہ کے خطبہ کے دوران چندہ کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان گرامی اس مسئلے کے بارے میں کہ عام طور پر مساجد میں خطبہ جمعہ کے دوران مسجد کے اخراجات کے لیے چند کیا جاتا ہے،
پوچھنا یہ ہے کہ خطبہ کے دوران صدقہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ خطبہ کے دوران مسجد کا چندہ کرنے سے احترازکر ناچاہیے۔ اہل مسجد کو چاہیے کہ اس وقت چند جمع کریں جب جمعہ کا خطبہ شروع نہ ہوا ہو، جب خطبہ شروع ہو جائے تو انتہائی ادب اور احترام کے ساتھ اس کا سننا واجب ہے۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (2/ 159، ط: دارالفكر)
(وكل ‌ما ‌حرم ‌في ‌الصلاة حرم فيها) أي في الخطبة خلاصة وغيرها فيحرم أكل وشرب وكلام ولو تسبيحا أو رد سلام أو أمرا بمعروف بل يجب عليه أن يستمع ويسكت .

الهندية: (1/ 147، ط: دارالفكر)
ويحرم في الخطبة ما يحرم في الصلاة حتى لا ينبغي أن يأكل أو يشرب ‌والإمام ‌في ‌الخطبة، هكذا في الخلاصة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 2012کی تصدیق کریں