شوهر و بیوی کے حقوق

دو بیویوں میں مساوات رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
1934
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

دو بیویوں میں مساوات رکھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو اس نے بہترین رہائش دی ہے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ دوسری کو بھی ا س طرح کی رہائش دینا ضروری ہے ؟ اگر نہ دے تو یہ آدمی شرعا مجرم ہوگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دونوں بیویوں کے درمیان نان ، نفقہ اور رہائش میں برابری ضروری ہے ، اگر کوئی شوہر اپنے بیویوں کے درمیان برابری نہیں رکھے گا، تو شرعا مجرم ہوگا ۔

حوالہ جات

سنن الترمذي: (2/ 434، رقم الحديث : 1141، ط: دار الغرب الإسلامي )
عن أبي هريرة ؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كان عند الرجل امرأتان ‌فلم ‌يعدل ‌بينهما» جاء يوم القيامة وشقه ساقط.

الدرالمختار مع رد المحتار : (3/ 201، ط: دارالفكر)
(يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور ( فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول ... (قوله وفي الملبوس والمأكول) أي والسكنى، ولو عبر بالنفقة لشمل الكل.

الهندية: (1/ 340، :ط: دارالفكر)
ومما يجب ‌على ‌الأزواج ‌للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة لا فيما لا يملك وهو الحب والجماع كذا في فتاوى قاضي خان.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
29
فتوی نمبر 1934کی تصدیق کریں