کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو اس نے بہترین رہائش دی ہے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ دوسری کو بھی ا س طرح کی رہائش دینا ضروری ہے ؟ اگر نہ دے تو یہ آدمی شرعا مجرم ہوگا یا نہیں ؟
واضح رہے کہ دونوں بیویوں کے درمیان نان ، نفقہ اور رہائش میں برابری ضروری ہے ، اگر کوئی شوہر اپنے بیویوں کے درمیان برابری نہیں رکھے گا، تو شرعا مجرم ہوگا ۔
سنن الترمذي: (2/ 434، رقم الحديث : 1141، ط: دار الغرب الإسلامي )
عن أبي هريرة ؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كان عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما» جاء يوم القيامة وشقه ساقط.
الدرالمختار مع رد المحتار : (3/ 201، ط: دارالفكر)
(يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور ( فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول ... (قوله وفي الملبوس والمأكول) أي والسكنى، ولو عبر بالنفقة لشمل الكل.
الهندية: (1/ 340، :ط: دارالفكر)
ومما يجب على الأزواج للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة لا فيما لا يملك وهو الحب والجماع كذا في فتاوى قاضي خان.