کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہے ، لیکن بیوی انکار کردیتی ہے ، ایسی بیوی اور اس کے انکار کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے بیوی گناہ گار ہے ، جو عورت شوہر کے بلانے پر اس کی ضرورت پوری نہ کرے تو صبح تک اس پر لعنت برستی ہے ۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 34]
وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ .
صحيح البخاري: (4/ 116، رقم الحدیث : 3237، ط:دار طوق النجاۃ)
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح ۔
الهندية: (1/ 270، ط: دارالفكر)
ووجوب إطاعته عليها إذا دعاها إلى الفراش وولاية تأديبها إذا لم تطعه بأن نشزت واستحباب معاشرتها بالمعروف هكذا في البحر الرائق .
الشامية :(3/ 576، ط: دارالفكر)
(قوله لو مانعته من الوطء إلخ) قيده في السراج بمنزل الزوج وبقدرته على وطئها كرها. وقال بعضهم: لا نفقة لها؛ لأنها ناشزة. اهـ .