تفریق و تنسیخ

شادی کے بعد معلوم ہو کہ شوہر نامرد ہے تو اس کا حکم

فتوی نمبر :
1712
معاملات / احکام طلاق / تفریق و تنسیخ

شادی کے بعد معلوم ہو کہ شوہر نامرد ہے تو اس کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں؟کہ ہم نے سنا ہے کہ اگر شادی کے بعد مرد کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ وہ عنّین (نامرد) ہے اور عورت سے جماع کی طاقت نہیں رکھتا تو نکاح منسوخ کردیا جائے گا، لیکن اگر اس نے بیوی سے ایک مرتبہ بھی جماع کرلیا ہو تو ان کے درمیان جدائی نہ کی جائے گی اور مرد کو کسی جسمانی نقص یا عیب کی بنیاد پر بطور شوہر واپس نہیں لوٹایا جاسکتا۔
برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر نکاح کے بعد معلوم ہو کہ شوہر عنین ہے یعنی مباشرت پر قادر نہیں تو عورت کو شرعاً نکاح فسخ کرانے کا حق بعض شرائط کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔
1) عورت کو پہلے اس کا علم نہ ہو، اگر عورت کو شوہر کے عنین ہونے کا پہلے علم تھا اور پھر بھی نکاح کیا تو بعد میں فسخ کا حق نہیں ہوگا۔
2) شوہر نے نکاح کے بعد ایک بھی جماع نہ کیا ہو، اگر شوہر ایک مرتبہ بھی ہمبستری کرچکا ہو، پھر بعد میں عنین ہوگیا ہو تو عورت فسخ کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔
3)جب عورت کو شوہر کے عنین ہونے کا علم ہو جائے تو وہ اس حالت میں ساتھ رہنے پر راضی نہ ہو، اگر اس نے رضامندی کا اظہار کیا تو بعد میں انکار پر فسخ کا حق نہیں ہوگا۔
جب عدالت میں شوہر کا عنین ہونا ثابت ہو جائے تو قاضی اسے علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دے گا اور اس دوران میاں بیوی ساتھ رہیں گے، سال پورا ہونے پر قاضی عورت کو اختیار دے گا کہ علیحدگی چاہتی ہے یا نہیں، اگر وہ اسی وقت علیحدگی کا مطالبہ کرے تو نکاح ختم کر دیا جائے گا اور اگر وہ خاموش رہے، ساتھ رہنے کا کہہ دے، مجلس سے اٹھ جائے یا دیر کر دے تو نکاح کے فسخ کرنے کا حق ختم ہو جائے گا۔

حوالہ جات

*المعجم الكبير: (9/ 343،ط: مكتبة ابن تيمية):*
عن عبد الله، قال: «يؤجل العنين سنة، فإن وصل إليها وإلا فرق بينهما، ولها الصداق..

*المحيط البرهاني: (3/ 173،ط:دارالکتب العلمیة)*
إذا وجدت المرأة ‌زوجها ‌عنينا، فلها الخيار إن شاءت أقامت معه كذلك، وإن شاءت خاصمته عند القاضي وطلبت الفرقة، فإن خاصمته فالقاضي يؤجله سنة وتعتبر السنة عند أكثر المشايخ بالأيام، وهو رواية ابن سماعة عن محمد رحمه الله، وعليه الفتوى، ولا يكون التأجيل إلا عند سلطان يجوز قضاؤه. وابتداء التأجيل من وقت المخاصمة. فإذا مضت سنة من وقت التأجيل وادعى الرجل أنه وصل إليها فإن كانت ثيبا فالقول قول الزوج مع يمينه، فإن كانت بكرا أراها القاضي النساء، والواحدة تكفي، والمثنى أحوط، فإن قلن ثيب ثبت ثيابتها وصوله إليها، فيكون القول في ذلك قول الزوج مع يمينه، وإن قلن: هي بكر فالقول قولها في عدم الوصول إليها، فإن شهد البعض بالبكارة والبعض بالثيابة يريها غيرهن، فإن قلن: هي بكر يخيرها القاضي، وإن اختارت زوجها أو قامت من مجلسها أو أقامها أعوان القاضي أو قام القاضي قبل أن تختار شيئا بطل خيارها. وإن اختارت الفرقة أمر القاضي زوجها أن يطلقها، وإن أبى فرق القاضي بينهما، هكذا ذكر محمد رحمه الله في «الأصل» .
وذكر في «المنتقى» : هشام عن محمد رحمه الله في العنين إذا مضى سنة خير القاضي امرأته، وصار كأن الزوج خيرها، فإذا اختارت نفسها بانت منه، فعلى هذه الرواية لم يشترط قضاء القاضي لوقوع الفرقة وإنها تخالف رواية «الأصل» أيضا..

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 1712کی تصدیق کریں