من گھڑت احادیث

کیا حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا کو پوری زندگی کبھی حیض نہیں آیا؟

فتوی نمبر :
1537
قرآن و حدیث / تحقیق و تخریج حدیث / من گھڑت احادیث

کیا حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا کو پوری زندگی کبھی حیض نہیں آیا؟

حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بعض علما یہ فرماتے ہیں کہ ان کو حیض نہیں آتا تھا کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ انہیں ماہواری نہیں آتی تھی، لیکن یہ روایات محدثین کرام کے نزدیک ثابت نہیں، علامہ ابن الجوزی (م۵۹۷ھ) ، حافظ ذہبی(م۷۴۸ھ)، علامہ سیوطی(م۹۱۱ھ) اور علامہ ابن عراق کنانی (م۹۶۳ھ)رحمہم اللہ نے ان روایات کو موضوع(من گھڑت)قرار دیا ہے، لہذا ان روایات کو بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

حوالہ جات

*معجم الشيوخ لابن جميع الصيداوي:(ص359،ط:مؤسسة الرسالة)*
حدثنا غانم بن حميد، ببغداد، حدثنا أبو عمارة أحمد بن محمد، حدثنا الحسن بن عمرو بن سيف السدوسي، حدثنا القاسم بن مطيب، حدثنا منصور بن صدقة، عن أبي معبد، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌ابنتي ‌فاطمة ‌حوراء ‌آدمية ‌لم ‌تحض ولم تطمث، وإنما سماها فاطمة لأن الله عز وجل فطمها ومحبيها عن النار.
وأخرجه الخطيب البغدادي في "تاريخه"(14/288)(2725)وقال: في إسناد هذا الحديث من المجهولين غير واحد وليس بثابت.
وذكره ابن الجوزي في "الموضوعات"(1/421) وأقره على الذهبي في "التلخيص"(150)(325) والسيوطي في "اللآلىء المصنوعة"(1/365)و ابن عراق الكناني في " تنزيه الشريعة"(1/412)(14)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
35
فتوی نمبر 1537کی تصدیق کریں