کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے وہ نماز کے بڑے پابند تھے ،لیکن بیماری کی حالت میں دو ماہ تک نماز ادا نہیں کرسکے ، صرف جمعہ ادا کرتے تھے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ ان کی جو نماز یں رہ گئی ہے ان کا فدیہ دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟
واضح رہے کہ اگر میت نے اپنی فوت شدہ نمازوں کے فدیہ ادا کرنے کی کوئی وصیت کی ہو اور اس نے جائیداد بھی چھوڑی ہو ، تو اس کے کل مال کے ایک تہائی میں سے نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے گا ، لیکن اگر اس نے فدیہ کی وصیت نہ کی ہو یا مال، جائیدادوغيره نہ چھوڑا ہو تو ورثاپر ان کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے
البتہ اگر بالغ ورثا اپنی خوشی سے ان کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے ، اللہ تعالیٰ کے رحمت سے امید ہے کہ میت مواخذہ سے بری ہوجائے گا ۔
الشامية : (2/ 72، ط: دارالفكر)
(قوله يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد.
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى.
الهندية: (1/ 125، ط: دارالفكر)
إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله وإن لم يترك مالا يستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى مسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا، كذا في الخلاصة.وفي فتاوى الحجة وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز .