کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں کبھی کھبار کمرے میں دوستوں کی شور ، یا مہمانوں کی وجہ سے میں نہیں پڑھ پاتا تو مسجد جاکر پڑھتا ہوں ، پوچھنا یہ ہے کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ میں مجبوری میں مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی علوم کا مطالعہ کروں ؟
مسجد میں دنیا وی کتابوں کی پڑھنے کی گنجائش ہے ، تاہم اس بات کا دھیان رہے کہ آپ کی کتابوں میں جاندار کی ایسی تصویر نہ ہو جو صاف نظر آرہی ہو ۔اور بہتر یہ ہے کہ آپ مسجد میں داخل ہوتے وقت نفلی اعتکاف کی نیت کرلیں ۔
بدائع الصنائع: (7/ 279، ط:دارالكتب العلمية )
وجه قولهما: أن الجلوس في المسجد لغير الصلاة من الحديث والنوم مباح .
الشامية : (1/ 662، ط: دارالفكر)
وفي صلاة الجلابي: الكلام المباح من حديث الدنيا يجوز في المساجد وإن كان الأولى أن يشتغل بذكر الله تعالى، كذا في التمرتاشي.
الموسوعة الفقهية : (35/ 118، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
فذهب الحنفية والمالكية والحنابلة إلى كراهة الكلام في المساجد بأمر من أمور الدنيا.قال الحنفية: والكلام المباح فيه مكروه يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب فإنه مكروه والكراهة تحريمية، لأن المساجد لم تبن له.