جعل سازی

امتحان میں نقل کرانے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
1053
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جعل سازی

امتحان میں نقل کرانے کا شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے متعلق کہ امتحان میں نقل کرانے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

امتحان کا اصل مقصد طالب علم کی علمی قابلیت اور فہم و فراست کی جانچ ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر اسے نمبرات، اسناد اور تعلیمی درجات دیے جاتے ہیں۔
امتحان میں نقل کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا محض ایک فریب ہے، جس کے ذریعہ کوئی شخص جھوٹے طور پر خود کو اہل ظاہر کرتا ہے، یہ عمل دراصل جھوٹ، خیانت اور جھوٹی گواہی کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔
لہٰذا امتحان میں نقل کرنا یا کسی کو نقل کروانا شرعاً ناجائز اور سخت گناہ ہے، اس سے نہ صرف فرد کا اخلاقی و دینی نقصان ہوتا ہے، بلکہ معاشرے میں نااہل افراد کو مقام ملنے کا باعث بن کر اجتماعی فساد کا ذریعہ بنتا ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم (النساء:58:4)*
قال اللہ تعالیٰ:إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا.

*وأيضاً:(الانفال:58:8)*
إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ.

*صحيح مسلم:(56/1،رقم الحديث:108،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا أبو بكر بن إسحاق ، أخبرنا ابن أبي مريم ، أخبرنا محمد بن جعفر قال: أخبرني العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحرقة ، عن أبيه ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «من علامات المنافق ثلاثة: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا ائتمن خان .»

*مرقاۃ المفاتیح:(126/1،ط: دارالفكر)*
فالكذب الاخبار على خلاف الواقع، وحق الامانة ان تؤدى الى اهلها، فالخيانة مخالفة لها، واخلاف الوعد ظاهر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
50
فتوی نمبر 1053کی تصدیق کریں