معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جعل سازی

کسی ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنے والد ، قوم اور ملک کانام تبدیل کرنے کا حکم

فتوی نمبر : 1149 0000-00-00 108 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک غیر ملکی شخص ہمارے یہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کچھ رقم خرچ کرکے اپنے والد اور قوم کا نام تبدیل کرکے شناختی کارڈ حاصل کرلیتے ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ ان کا اس طرح سے کسی ملک کا شناختی کارڈ حاصل کرنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی اور کا نام اپنے والد صاحب کی جگہ لکھ کر شناختی کارڈ بنوانا جھوٹ ، دھوکہ اور فراڈ ہے ، اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ، اسی طرح یہ کسی ملک کے اصولی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو شرعاً ناجائزاور قانوناً موجب سزا ہے ۔

القرأن الكريم [الأحزاب:/33 5] ﵟ ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخۡطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا . سنن أبي داود: (7/ 437 ، رقم الحديث : 5115، ط: دار الرسالة العالمية ) عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من ‌ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة إلى يوم القيامة" . الشامية :(4/ 166، ط: دارالفكر) (قوله إذ ‌المسلمون ‌عند ‌شروطهم) لأنه ضمن بالاستئمان أن لا يتعرض لهم، والغدر حرام إلا إذا غدر به ملكهم فأخذ ماله أو حبسه أو فعل غيره بعلمه ولم يمنعه لأنهم الذين نقضوا العهد بحر .
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)