نان و نفقہ

والدین کے گھر عدت گزارنے کی صورت میں نان و نفقہ کا حکم

فتوی نمبر :
1038
معاملات / عدت نان و نفقہ / نان و نفقہ

والدین کے گھر عدت گزارنے کی صورت میں نان و نفقہ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ عورت عدت اپنے والدین کے گھر پر گزارے تو کیا نان و نفقہ شوہر پر واجب ہوگا دونوں صورتوں کی وضاحت فرمائیے کہ والدین کے گھر کسی مجبوری کی بنا پر گئی ہے، یا بغیر کسی مجبوری کے گئی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق یا خلع کے بعد عورت کے لیے عدت شوہر کے گھر ہی میں گزارنا واجب ہے اس دوران شوہر پر لازم ہے کہ وہ باپردہ رہائش اور نان و نفقہ کا مناسب انتظام کرے۔
لہٰذا اگر عورت شوہر کے گھر میں عدت گزار رہی ہے تو عدت کے دوران مطلّقہ کا نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے،لیکن اگر عورت شوہر کی اجازت یا بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کے گھر کے علاوہ اپنے میکے یا کسی اور جگہ میں عدت گزار رہی ہے تو ایسی صورت میں عدت کا نفقہ شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہے ۔

حوالہ جات

*الھندیة:(557/1، ط:دار الفکر)*
المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها ..... والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية. ولو طلقها، وهي ناشزة فلها أن تعود إلى بيت زوجها، وتأخذ النفقة ..... وكما تستحق المعتدة نفقة العدة تستحق الكسوة كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح.

*الدرالمختار:(258/1،ط: دارالفکر)*
(لا)نفقة لأحد عشر: مرتدة ومقبلة ابنه، ومعتدة موت، ومنكوحة فاسدا وعدته، وأمة لم تبوأ، وصغيرة لا توطأ، و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره خلافا للشافعي، والقول لها في عدم النشوز بيمينها، وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت، قيد بالخروج؛ لأنها لو مانعته من الوطء لم تكن ناشزة.

*رد المحتار:(609/3 ،ط: دار الفکر)*
(قوله وتجب لمطلقة الرجعي والبائن) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة؛ لأن النفقة تابعة للعدة (إلی قولہ) فلا نفقة على الثاني لفساد نكاحه ولا على الأول إن خرجت من بيته لنشوزها وفي المجتبى: ‌نفقة ‌العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
36
فتوی نمبر 1038کی تصدیق کریں