شوہر اور بیوی دونوں ملازمت کرتے ہوں تو شوہر پر بیوی کا نان نفقہ لازم ہوگا؟
واضح رہےکہ نکاح کے بعد شوہر کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بیوی کے نان نفقہ، لباس اور رہائش کا خرچہ شوہر پر لازم ہوتا ہے، چاہے بیوی کے پاس مال ہو یا نہ ہو، ملازمت کرنے والی خاتون اگر شوہر کی اجازت سے ملازمت کرتی ہے تو اس کا نان نفقہ شوہر پر لازم ہوگا، البتہ اگر شوہر اس شرط کے ساتھ اجازت دے کہ وہ اپنا نان نفقہ خود برداشت کرے گی تو اس صورت میں نان نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوگا۔
اگر بیوی شوہر کے منع کرنے اور اجازت نہ دینے کے باوجود ملازمت کے لیے باہر جاتی ہو تو پھر’’ناشزہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کا نان نفقہ شوہر پر واجب نہیں ہوگا۔
*الدرالمختار:(3/ 572،ط:دارالفكر)*
وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته.
*الهندية: (1/ 544،ط:دارالفکر)*
تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة.
*الفقه الإسلامي وأدلته :(10/ 7378،ط: دار الفكر)*
إذا عملت الزوجة نهاراً أو ليلاً خارج المنزل كالطبيبة والمعلمة والمحامية والممرضة والصانعة، فالمقرر في القانونين المصري والسوري أنه إذا رضي الزوج بخروجها ولم يمنعها من العمل، وجبت لها النفقة؛ لأن احتباس الزوجة حق للزوج، فله أن يتنازل عنه.وإن لم يرض بعملها، ونهاها عن العمل، فخرجت من أجله، سقط حقها في النفقة؛ لأن الاحتباس في هذه الحالة ناقص غير كامل، فلو سلمت المرأة نفسها بالليل دون النهار أو عكسه؛ فلا نفقة لنقص التسليم.
*کذا فی حاشیة امداد الاحکام:(2/887،ط:مكتبۂ دارالعلوم کراچی)*