کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ بعض مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، ان کی نیند میں خلل واقع ہوتا ہے اور آس پاس کے لوگ پریشان ہوتے ہیں، کیا یہ مسجد کے تقدس کے خلاف ہے؟
واضح رہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اذان واقامت اور وعظ و نصیحت کے لیے ضرورت کے مطابق جائز ہے، لہٰذا آواز اتنی رکھی جائے جس سے مسجد کے نمازی بآسانی استفادہ کر سکیں اور آس پاس کے لوگوں کو تکلیف نہ ہو،،تاہم حد سے زیادہ بلند آواز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنا درست نہیں اور یہ مسجد کے تقدس کے بھی خلاف ہے۔
*سنن النسائي:(8/ 183،رقم الحدیث:4996،ط:دار الرسالة العالمية)*
أخبرنا عمرو بن علي قال: حدثنا يحيى، عن إسماعيل، عن عامر
عن عبد الله بن عمرو قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه".
*الشامیۃ: (1/ 589،ط:دارالفکر)*
صرح في السراج بأن الإمام إذا جهر فوق الحاجة فقد أساء.
*ایضا:(6/ 398،ط:دارالفکر)*
«وقال: إن هناك أحاديث اقتضت طلب الجهر، وأحاديث طلب الإسرار والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال، فالإسرار أفضل حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام والجهر أفضل حيث خلا مما ذكر،