کیا کسی مدرسہ کی انتظامیہ کے لیے جائز ہے کہ وہ مدرسہ کے پیسوں سے طلبہ کو تبلیغی اسفار یا کسی تبلیغی اجتماع کے لیے بھیجیں؟
واضح رہے کہ مدرسے کے لیے دی گئی رقم کو اسی مصرف میں خرچ کرنا ضروری ہے، جس مصرف کے لیے وہ پیسے دیے گئے ہیں، کسی اور مصرف میں صرف کرنا جائز نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں مدرسے کے فنڈ سے طلبہ کو تبلیغ پر بھیجنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ پیسے طلبہ کو دے دیے جائیں، اس رقم کا طلبہ کو مالک بنا دیا جائے تو ان پیسوں سے طلبہ کا تبلیغ پر جانا یا اس رقم کو کسی دوسرے جائز مقصد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے، نیز اگر مدرسے کے وکالت نامہ میں اس بات کی صراحت ہو کہ یہ رقم مدرسے کی انتظامیہ جس مصرف میں استعمال کرنا چاہے اسے اختیار ہوگا تو اس صورت میں بھی گنجائش ہے۔
الشامیة:(2/ 269،ط:دارالفکر) وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت،»،،،،،،،قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدا صغيرا فلا بد من كونه فقيرا أيضا لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه أفاده ط عن أبي السعود وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية. وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لا يضمن لقولهم: لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره. اهـ. أقول: وفيه نظر لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر لأن الداخل تحته ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل، وتلزم القربة كما صرحوا به، وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل. البحر الرائق:(2/ 262،ط: دار الكتاب الإسلامي) «وفي الظهيرية: رجل دفع زكاة ماله إلى رجل وأمره بالأداء فأعطى الوكيل ولد نفسه الكبير أو الصغير أو امرأته وهم محاويج جاز، ولا يمسك لنفسه شيئا، ولو أن صاحب المال قال له: ضعه حيث شئت له أن يمسك لنفسه.