مفتی صاحب 12 ربیع الاول کے دن روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے کہ 12 ربیع الاول کے دن روزہ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں شرعی رہنمائی درکار ہے
واضح رہے کہ عیدین اور ایامِ تشریق کے علاوہ کسی بھی دن نفلی روزہ رکھنا جائز بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، البتہ 12 ربیع الاول کی تاریخ کو خاص کرکے اس دن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کا دن قرار دینا اور اس مناسبت سے روزے کو مستحب یا سنت سمجھنا درست نہیں ہے۔ اگرچہ بعض لوگ 12 ربیع الاول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیتے ہیں اور اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن پیدا ہوئے تھے اور پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت نہیں تھی، بلکہ اس کے علاوہ بھی متعدد اسباب تھے،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کو اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش کیے جائیں۔ اسی طرح پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھی نازل ہوئی تھی، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر پیر کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے، نہ کہ سال میں صرف ایک مرتبہ، اس لیے اگر کسی شخص میں استطاعت ہو تو وہ ہر پیر کو اس نیت سے نفلی روزہ رکھ سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، البتہ کسی خاص تاریخ، مثلاً 12 ربیع الاول، کو متعین کرکے اس دن روزہ رکھنے کو سنت یا مستحب قرار دینا درست نہیں۔
الاعتصام للشاطبی:(1/ 386،ط:دار ابن عفان) إذا ثبت هذا؛ فالدخول في عمل على نية الالتزام له، إذا ثبت هذا، فالدخول في عمل على نية الالتزام له إن كان في المعتاد، بحيث إذا داوم عليه؛ أورث مللا، ينبغي أن يعتقد أن هذاالالتزام مكروه ابتداء، إذ هو مؤد إلى أمور جميعها منهي عنه: أحدها: أن الله ورسوله أهدى في هذا الدين التسهيل والتيسير، وهذا الملتزم يشبه من لم يقبل هديته، وذلك يضاهي ردها على مهديها، وهو غير لائق بالمملوك مع سيده، فكيف يليق بالعبد مع ربه؟!..... (والخامس): الخوف من الدخول تحت الغلو في الدين؛ فإن الغلو هو المبالغة في الأمر، ومجاوزة الحد فيه إلى حيز الإسراف، وقد دل عليه مما تقدم أشياء: ایضاً: (1/ 53) ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة، كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك. ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته. سنن الترمذي: (2/ 114،ط:دار الغرب الإسلامي) 747 - حدثنا محمد بن يحيى، قال: حدثنا أبو عاصم ، عن محمد بن رفاعة، عن سهيل بن أبي صالح ، عن أبيه ، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم. السنن الكبرى: (3/ 214،ط:مؤسسة الرسالة) 2790 - أخبرنا عمرو بن علي، قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال: حدثنا مهدي بن ميمون، عن غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن أبي قتادة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن صوم يوم الاثنين، قال: «هو يوم ولدت فيه ويوم أنزل علي فيه.