عرفہ کے دن حج کے دوران روزہ رکھنا کیسا ہے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے لیے روزہ رکھنا صحیح نہیں ہے۔
عرفہ کے دن کا روزہ نہایت فضیلت والا ہے، احادیث میں آیا ہے کہ یہ روزہ ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، یہ فضیلت تمام حاجی اورغیر حاجی دونوں کے لیےہے، البتہ حاجی اگر روزہ رکھنے سے کمزوری محسوس کرے اور ارکانِ حج کی ادائیگی میں دشواری ہو تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
سنن الترمذي:(115/2،رقم الحديث:749،ط: دارالغرب الإسلامي) حدثنا قتيبة وأحمد بن عبدة الضبي، قالا: حدثنا حماد بن زيد،عن غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني،عن أبي قتادة أن النبي ﷺ قال: «صيام يوم عرفة إني أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده». الشامية:(375/2،ط: دارالفكر) والمندوب كأيام البيض من كل شهر ويوم الجمعة ولو منفردا وعرفة ولو لحاج لم يضعفه.(قوله: لم يضعفه) صفة لحاج أي إن كان لا يضعفه عن الوقوف بعرفات ولا يخل بالدعوات محيط فلو أضعفه كره.