مفتی صاحب! چھ سال قبل زید کے بیٹے کی شادی پر میں نے ان کو دس بوری چاول کی دی تھی، چونکہ ان کی مالی حالت کمزور تھی ،اس لیے وہ قیمت وقت پر ادا نہ کر سکا، اور یہ کہا کہ سال کے بعد قیمت ادا کر دوں گا ،اب وہ قیمت ادا کرنا چاہ رہے ہیں، تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ آیا چاول کی گزشتہ قیمت چھ سال پہلے والی دینی پڑے گی ؟یا آج کی قیمت؟ جبکہ دونوں قیمتوں میں بہت بڑا فرق آیا ہے ۔
خرید و فروخت کرتے وقت جو قیمت طے ہو جائے ،وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی، اسی وقت ادا کرے یا بعد میں ادا کرے ۔لہذا پوچھی گئی صورت میں چاول کی گزشتہ چھ سال پہلی والی قیمت ادا کرنی ہوگی، آج کی قیمت کے حساب سے زیادہ قیمت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔
الدرالمختار مع رد المحتار: (4/ 536، ط: دارالفكر) (و) الثمن المسمى قدره لا وصفه (ينصرف مطلقه إلى غالب نقد البلد) بلد العقد مجمع الفتاوى لأنه المتعارف.....(قوله: والثمن المسمى قدره لا وصفه) لما كان قول المصنف ينصرف مطلقا موهما أن المراد بالمطلق ما لم يذكر قدره ولا وصفه بقرينة قوله أولا وشرط لصحته معرفة قدر ووصف ثمن، دفع ذلك بأن المراد المطلق عن تسمية الوصف فقط. مطلب يعتبر الثمن في مكان العقد وزمنه (قوله: مجمع الفتاوى) فإنه قال معزيا إلى بيوع الخزانة: باع عينا من رجل بأصفهان بكذا من الدنانير فلم ينقد الثمن حتى وجد المشتري ببخارى يجب عليه الثمن بعيار أصفهان، فيعتبر مكان العقد. اهـ. منح. قلت: وتظهر ثمرة ذلك إذا كانت مالية الدينار مختلفة في البلدين، وتوافق العاقدان على أخذ قيمة الدينار لفقده أو كساده في البلدة الأخرى، فليس للبائع أن يلزمه بأخذ قيمته التي في بخارى إذا كانت أكثر من قيمته التي في أصبهان وكما يعتبر مكان العقد يعتبر زمنه أيضا كما يفهم مما قدمناه في مسألة الكساد والرخص فلا يعتبر زمن الإيفاء: لأن القيمة فيه مجهولة وقت العقد وفي البحر عن شرح المجمع لو باعه إلى أجل معين وشرط أن يعطيه المشتري أي نقد يروج يومئذ كان البيع فاسدا. الدرالمختار: (3/ 840، ط: دارالفكر) لأن الديون تقضى بأمثالها.