کاروبار

کھاد اس شرط پر ادھار خریدنا کہ پیداوار کھاد بیچنے والے ہی کو فروخت کرے گا

فتوی نمبر :
1591
معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

کھاد اس شرط پر ادھار خریدنا کہ پیداوار کھاد بیچنے والے ہی کو فروخت کرے گا

(1) ہمارے پاس آج کل یہ اس طرح سے چل رہا ہے کہ لوگ زمین میں کاشتکاری کرتے ہیں، جب زمین کو کھاد دینی ہوتی ہے تو رقم موجود نہیں ہوتی جس سے کھاد خرید سکیں اور کچھ لوگ اس کھاد کو بطورِ قرضہ اس طور پر دیتے ہیں، مثلاً کھاد کی بوری 1800 کی ملتی ہے تو یہ کھاد کی بوری بطورِ قرض اس طرح لے کر دیتے ہیں آپ 6 مہینے بعد پیسے دینا 2400 روپے ۔ آیا یہ اس طرح لینا جائز ہے یا نہیں؟
(2)اور اسمیں ایک شرط یہ بھی لگائی جاتی ہے جو ادھار دے رھے پھر بیچنا بھی انکی دکان پر ہے؟
اور ادھار دینے والا زمین دار کو کہے کہ فلاں شخص سے جاکر کھاد لے لیں تو کیا یہ ادھار دینے والے کا قبضہ شمار ہوگا یا نہیں یا اس کو الگ سے قبضہ کر کے پھر اس زمین دار کو دے رہنمائی فرمائیں جزاک اللّٰہ خیر

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں چونکہ ادھار خریداری میں یہ شرط لگائی گئی ہے کہ پیداوار ادھار کھاد دینے والے ہی کو فروخت کی جائے گی، لہذا یہ معاملہ کرنا جائز نہیں، احادیث مبارکہ میں اس سے منع فرمایا گیا ہے، البتہ اگر ادھار خریداری بغیر کسی شرط کے کی جائے اور اس میں ادائیگی کا وقت اور قیمت متعین کر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
نیز اگر خریدار بغیر مبیع پر قبضہ کیے آپ کو فروخت کر دے تو یہ بھی جائز نہیں، ایسی بیع سے احتراز لازم ہے ۔

حوالہ جات

*الھندیة:(49/3،ط: دارالفکر )*
قال: "وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا أو دارا على أن يسكنها أو على أن يقرضه المشتري درهما أو على أن يهدي له هدية"؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين؛ ولأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع وسلف؛ ولأنه لو كان الخدمة والسكنى يقابلهما شيء من الثمن يكون إجارة في بيع، ولو كان لا يقابلهما يكون إعارة في بيع. وقد نهى النبي عليه الصلاة والسلام عن صفقتين في صفقة، قال: "ومن باع عينا على أن لا يسلمه إلى رأس الشهر فالبيع فاسد"؛ الخ

*الشامیة:(561/4،ط: دارالفکر)*
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.

*فقه البیوع:(492/1،ط:ادارۃ المعارف)*
ومن قبیل زیادۃ الشرط فی البیع مایسمی صفقة فی صفقة وھو ان یشترط فی العقد عقد اخر مثل، ان یقول البائع بعتک داری بکذا علی ان تبیعنی سیارتک بکذا وقد اتفق العلماء علی کونہ ممنوعا شرعاً الخ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 1591کی تصدیق کریں