السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ! سنیک (سانپ)کا تیل بالوں میں لگانا کیسا ہے ؟
سانپ کا تیل چونکہ حرام جانوروں کا تیل ہے، لہذا اس کے بنانے کے عمل کو دیکھا جائے گا کہ اس تیل کو بناتے وقت کیمیاوی عمل کے ذریعے اگرحقیقت بدل کر کچھ اور ہو جائے تو اس کا استعمال بلا کر ہت درست ہے، لیکن اگر حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی، تو پھر یہ ناپاک تیل ہے، اس کا خارج استعمال علاج معالجہ کے طور پر درست ہے، لیکن جسم کی جس حصہ پر لگایا جائے، نماز سے قبل اس کا دھونا لازمی ہے، اس کو دھوئے بغیر نماز درست نہیں ہوگی۔
الشامية : (5/ 68، ط: دارالفكر) في الحاوي الزاهدي: يجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها للأدوية، وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه أي من حيوانات البحر أو غيرها. بدائع الصنائع : (5/ 36، ط: دارالكتب العلمية ) وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ وسام أبرص وجميع الحشرات وهوام الأرض من الفأر والقراد والقنافذ والضب واليربوع وابن عرس ونحوها، ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء إلا في الضب فإنه حلال عند الشافعي. فتاوی دارالعلوم دیوبند :(1/286 ، ط: دارالاشاعت کراچی ) سانپ کی کھال دباغت سے پاک ہوگی یا نہیں ؟سوال ایسے سانپ ایسے بڑے سانپ کی کھال جو دباغت قبول کر سکے بعد دباغت پاک اور قابل استعمال ہے یا نہیں ؟ جواب :اگر دباغت قبول کر سکے ،تو پاک اور قابل استعمال ہے، لیکن کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سانپ کی کھال دباغت کو قبول نہیں کر سکتی، غالبا پتلی ہونے کی وجہ سے یا دباغت میں باقی نہ رہنے کی وجہ سے۔