معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

خریدی ہوئی چیز کو قبضہ کرنے سے پہلے آگے فروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر : 2947 0000-00-00 4 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

مفتی صاحب ! صدر میں ہماری موٹرسائیکلوں کی ایک بڑی دکان ہے، اس کے متعلق ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ اگر کوئی گاہک ہم سے ادھار کچھ مہنگی قیمت میں بائیک لیتا ہے، تو ہم اس کو بائیک کی چابی دیتے ہیں، اس کو کہتے ہیں کہ آپ اپنی بائیک لے جا سکتے ہیں، وہ ہم سے چابی لے کر کسی اور کو نقد قیمت میں فروخت کرکے پیسے لے کر بائک کی چابی اس کو دیتا ہے اور اس کو کہتا ہے، کہ لے جانا چاہو تو لے جا سکتے ہو، وہ اگلا خریدار بھی بائیک کو نہیں لے جاتا ،وہ اگلا خریدار ہمیں نفع قیمت پر وہ بائیک بھیجتا ہے اور ہمیں اس بائیک کی چابی دیتا ہے کیا اس طرح سے ہمارے لیے اپنے خریدار کے خریدار سے بائیک لینا جائز ہے ،جبکہ وہ بائیک ہمارے شو روم میں ہی کھڑی ہوتی ہے ہم ان کے حوالے کر دیتے ہیں، کہ اب آپ کی چیز ہے آپ جہاں لے جانا چاہیں لے جائیں، وہ صرف چابی ہاتھ میں رکھتے ہیں، بائیک نہیں لے جاتے لے جانا چاہیں تو کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہے اور ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے ورنہ عموما ہم قسطوں پر یا نقد پر بیچتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں تیسری شخص کا آپ کو دوبارہ بیچنا اگر معروف ہو، یا مشروط ہو ،تو یہ معاملہ بیع عینہ میں داخل ہو جاتا ہے، جو کہ سود کا حیلہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

الشامية : (5/ 273،ط:دارالفكر) (قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ ‌في ‌تفسير ‌العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهما وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم قال في الفتح: ولا كراهة فيه إلا خلاف الأولى لما فيه من الإعراض عن مبرة القرض اهـ ط ملخصا. فتح القدير : (6/ 435، ط: دارالفكر ) والذي ‌عقل ‌من ‌معنى ‌النهي أنه استربح ما ليس في ضمانه.ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ربح ما لم يضمن، وهذا؛ لأن الثمن لا يدخل في ضمانه قبل القبض، فإذا عاد إليه الملك الذي زال عنه بعينه وبقي له بعض الثمن فهو ربح حصل لا على ضمانه من جهة من باعه، وهذا لا يوجد فيما إذا اشتراه بمثل الثمن أو أكثر فبطل إلحاق الشافعي بذلك، بخلاف ما لو باعه المشتري من غير البائع فاشتراه البائع منه؛ لأن اختلاف الأسباب يوجب اختلاف الأعيان حكما.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)